ایرانی ڈرونز: ٹرمپ کی یوکرین سے خفیہ درخواست اور زیلنسکی کی مشروط رضامندی

ایرانی ڈرونز کا روس یوکرین جنگ میں استعمال اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کے حصول کی مبینہ خواہش نے عالمی سیاست میں ایک نیا بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، سابق امریکی صدر اور موجودہ سیاسی منظرنامے کے کلیدی کھلاڑی ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی قیادت سے درخواست کی ہے کہ انہیں روس کی جانب سے استعمال ہونے والے ایرانی ساختہ ‘شاہہد-136’ ڈرونز کا ایک نمونہ فراہم کیا جائے۔ یہ درخواست نہ صرف عسکری ماہرین کے لیے حیران کن ہے بلکہ اس نے واشنگٹن اور کیف کے درمیان سفارتی تعلقات میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مشروط جواب دیا ہے، جو جنگ زدہ ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک چال قرار دی جا رہی ہے۔

ایرانی ڈرونز اور ٹرمپ کی غیر معمولی دلچسپی

ایرانی ڈرونز، خاص طور پر شاہہد سیریز، نے یوکرین کے میدان جنگ میں تباہی مچا رکھی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جو اکثر غیر روایتی خارجہ پالیسی کے حامی رہے ہیں، اچانک ان ڈرونز میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم ان ڈرونز کی ٹیکنالوجی کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہتی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ شدید بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایران اتنی مؤثر فضائی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔ مزید برآں، یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ ٹرمپ اس ڈرون کو ایک سیاسی ٹرافی کے طور پر پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ روس اور ایران کے گٹھ جوڑ کو موجودہ انتظامیہ سے بہتر سمجھتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی عوام اور ریپبلکن ووٹرز کو یہ دکھانے کی کوشش ہو سکتا ہے کہ وہ عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک عملی اور جارحانہ سوچ رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ درخواست سفارتی آداب اور سرکاری پروٹوکولز سے ہٹ کر معلوم ہوتی ہے، کیونکہ عام طور پر اس قسم کا تبادلہ حکومتوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان خفیہ چینلز کے ذریعے ہوتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے براہ راست یا بالواسطہ یوکرین سے یہ مانگ کرنا ان کے غیر روایتی اندازِ سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔

شاہہد-136: روس کا مہلک ہتھیار اور یوکرین کا دفاع

شاہہد-136، جسے روس نے ‘گیران-2’ کا نام دے رکھا ہے، ایک خودکش یا ‘کامیکاز’ ڈرون ہے۔ یہ ڈرون سستا ہے، طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسے جھرمٹ کی شکل میں داغنا دفاعی نظام کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوتا ہے۔ یوکرین کی افواج نے گزشتہ دو سالوں میں ان ڈرونز کے درجنوں حملوں کا سامنا کیا ہے اور ان میں سے کئی کو مار گرانے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ مغربی انٹیلی جنس کے لیے سونے کی کان سے کم نہیں، کیونکہ اس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان ڈرونز میں مغربی ممالک کے تیار کردہ مائیکرو چپس اور دیگر اجزاء بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

یوکرین کے لیے یہ ڈرونز محض دھات کا ٹکڑا نہیں بلکہ دشمن کی کمزوریوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہیں۔ یوکرینی انجینئرز نے ان ڈرونز کے گائیڈنس سسٹم اور دھماکہ خیز مواد کے میکانزم کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اب جب کہ ٹرمپ نے ان میں سے ایک مکمل یا جزوی طور پر محفوظ ڈرون کا مطالبہ کیا ہے، تو یوکرین جانتا ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا ‘اثاثہ’ موجود ہے جس کی قیمت وہ واشنگٹن سے وصول کر سکتے ہیں۔

خصوصیت تفصیلات (شاہہد-136) اسٹریٹجک اہمیت
رینج (مار کی صلاحیت) تقریباً 1000 سے 2500 کلومیٹر یوکرین کے اندرونی شہروں تک رسائی
وار ہیڈ (دھماکہ خیز مواد) 30 سے 50 کلوگرام بنیادی ڈھانچے اور عمارتوں کی تباہی
قیمت 20,000 سے 50,000 ڈالر مہنگے میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی سستا
اجزاء مغربی اور چینی ساختہ پرزے پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اہم

صدر زیلنسکی کی شرط: فوجی امداد کے بدلے ٹیکنالوجی

صدر ولادیمیر زیلنسکی، جو ایک ماہر سیاستدان بن چکے ہیں، نے اس موقع کو ضائع نہیں جانے دیا۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے ٹرمپ کی اس درخواست پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کی شرط واضح ہے: اگر امریکہ میں ریپبلکن پارٹی، جس پر ٹرمپ کا گہرا اثر و رسوخ ہے، یوکرین کے لیے رکے ہوئے فوجی امدادی پیکجوں کی منظوری میں حائل رکاوٹیں دور کر دے، تو یوکرین یہ ڈرون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک کلاسک ‘بارٹر ڈیل’ ہے جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی ہے اور دوسری طرف بقا۔

زیلنسکی کا یہ موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین کو اس وقت شدید گولہ بارود اور فضائی دفاعی نظام کی قلت کا سامنا ہے۔ امریکی کانگریس میں سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے امداد کی فراہمی میں تاخیر نے یوکرین کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ زیلنسکی جانتے ہیں کہ ٹرمپ، اگرچہ ابھی وائٹ ہاؤس میں نہیں ہیں، لیکن وہ ریپبلکن قانون سازوں پر دباؤ ڈال کر امداد بحال کروا سکتے ہیں۔ لہٰذا، ایرانی ڈرون محض ایک پرزہ نہیں بلکہ یوکرین کے لیے لائف لائن حاصل کرنے کا ایک ٹوکن بن گیا ہے۔

جیو پولیٹیکل منظرنامہ اور تہران-ماسکو اتحاد

ٹرمپ کی یہ درخواست اور زیلنسکی کا جواب ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ روس اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون مغربی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایران نہ صرف روس کو ڈرونز فراہم کر رہا ہے بلکہ بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی کی بھی رپورٹس ہیں۔ اس اتحاد نے مشرق وسطیٰ سے لے کر مشرقی یورپ تک طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے۔

امریکہ کے لیے، چاہے وہ ڈیموکریٹک انتظامیہ ہو یا ریپبلکن اپوزیشن، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایرانی ٹیکنالوجی کس حد تک جدید ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کی دلچسپی شاید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ ایران کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی پالیسی ایران کے خلاف مزید سخت ہو سکتی ہے۔ یوکرین اس صورتحال میں ایک ‘سہولت کار’ کا کردار ادا کر رہا ہے جو مغرب کو اپنے دشمن کے ہتھیاروں کا توڑ فراہم کر سکتا ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی کی ریورس انجینئرنگ اور امریکی مفادات

تکنیکی اعتبار سے، شاہہد-136 کا مکمل تجزیہ امریکہ کے لیے کئی حوالوں سے سود مند ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ معلوم کرنا کہ اس میں استعمال ہونے والے ‘سینسرز’، ‘جی پی ایس ماڈیولز’ اور ‘پروسیسرز’ کہاں سے آ رہے ہیں، امریکہ کو اپنی برآمدی پابندیوں (Export Controls) کو مزید سخت کرنے میں مدد دے گا۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سویلین استعمال کی الیکٹرانکس کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ایرانی انجینئرز نے اس میں مہارت حاصل کر لی ہے۔

دوسرا، اس ڈرون کی ‘ریورس انجینئرنگ’ (Reverse Engineering) سے امریکہ کو ایسے الیکٹرانک وارفیئر (Electronic Warfare) سسٹم تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو ان ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا سکیں۔ چونکہ یہ ڈرونز جی پی ایس جامنگ کے خلاف کچھ حد تک مدافعت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے اندرونی کمیونیکیشن سسٹم کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ٹرمپ کی دلچسپی کا محور غالباً یہی ہے کہ وہ امریکی فوج کو مستقبل کی جنگوں کے لیے تیار دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں سستے ڈرونز مہنگے ٹینکوں اور جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکی سیاست پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات

اگر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان یہ غیر رسمی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اس کے امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ٹرمپ، عہدے پر نہ ہونے کے باوجود، بین الاقوامی امور میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایک شرمندگی کا باعث بھی بن سکتا ہے کہ ان کا حریف براہ راست غیر ملکی سربراہان کے ساتھ ‘لین دین’ کر رہا ہے۔

دوسری جانب، ریپبلکن پارٹی کے اندر جو حلقے یوکرین کی امداد کے مخالف ہیں، انہیں ٹرمپ کے حکم پر اپنا موقف تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ یوکرین کے لیے ایک بڑی سفارتی فتح ہوگی۔ تاہم، اس میں خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ اگر یہ ڈیل منظر عام پر آتی ہے اور اس کے نتیجے میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں (جیسے کہ لوگن ایکٹ کی خلاف ورزی)، تو یہ امریکی داخلی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر سکتی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کا مخمصہ

ریپبلکن پارٹی اس وقت دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک دھڑا روایتی طور پر روس مخالف ہے اور یوکرین کی مدد کا حامی ہے، جبکہ دوسرا دھڑا ‘امریکہ سب سے پہلے’ (America First) کے نعرے کے تحت غیر ملکی جنگوں میں فنڈنگ کا مخالف ہے۔ ٹرمپ کی یہ حرکت ان دونوں دھڑوں کو یکجا کر سکتی ہے یا پھر خلیج کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ یہ ثابت کر دیں کہ یوکرین کی مدد کرنا دراصل ایران (جو کہ امریکہ کا پرانا دشمن ہے) کے خلاف کارروائی ہے، تو وہ اپنی پارٹی کو یوکرین کی امداد پر راضی کر سکتے ہیں۔

مغربی دفاعی نظام اور ایرانی خطرات کا تجزیہ

ایران کے ڈرون پروگرام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے لڑاکا طیاروں کی ضرورت نہیں رہی۔ شاہہد ڈرونز نے سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں سے لے کر یوکرین کے پاور گرڈز تک کو نشانہ بنایا ہے۔ مغربی دفاعی نظام جیسے کہ ‘پیٹریاٹ’ (Patriot) میزائل سسٹم ان سستے ڈرونز کو گرانے کے لیے بہت مہنگے پڑتے ہیں۔ ایک ملین ڈالر کا میزائل 20 ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کے لیے استعمال کرنا معاشی طور پر تباہ کن ہے۔

اس تناظر میں، ٹرمپ کی درخواست ایک عملی حل کی تلاش بھی ہو سکتی ہے۔ اگر امریکہ ان ڈرونز کی فریکوئنسی اور فلائٹ پاتھ الگورتھم کو سمجھ لے، تو وہ سستے لیزر ہتھیار یا مائیکرو ویو گنز تیار کر سکتا ہے۔ یوکرین پہلے ہی ان تجربات کی لیبارٹری بنا ہوا ہے، اور زیلنسکی اس علم کو کرنسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ: یوکرین امریکہ تعلقات کی نئی جہت

اس تمام تر صورتحال کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا؟ اگر زیلنسکی ٹرمپ کو ڈرون فراہم کر دیتے ہیں اور بدلے میں ریپبلکنز امداد بحال کر دیتے ہیں، تو یہ یوکرین کی جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ زیلنسکی کے تعلقات کو کشیدہ بھی کر سکتا ہے۔ یوکرین کو بہت احتیاط سے اس ‘رسہ کشی’ میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔

دوسری طرف، روس اور ایران اس پیش رفت کو یقیناً تشویش کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اگر ان کی ٹیکنالوجی کے راز امریکہ کے ہاتھ لگ گئے، تو انہیں اپنے ڈرونز میں بنیادی تبدیلیاں کرنی پڑیں گی، جس پر وقت اور سرمایہ لگے گا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ جدید جنگی حکمت عملیوں میں ‘ٹیکنالوجی کی جاسوسی’ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *