سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ مارچ 2026 کے حوالے سے حالیہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا فیصلہ ملکی معاشی تاریخ میں ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ نو مارچ دو ہزار چھبیس کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی بنیادی شرح سود کو دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا حتمی اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ماہرینِ معیشت اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کے گورنر جمیل احمد کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ملکی معیشت کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں شرح سود کو کم کرنا یا بڑھانا معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے، سٹیٹ بینک نے دس اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح سود کو ہی ملکی معاشی استحکام کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔ یہ ایک محتاط اور جچا تلا قدم ہے جس کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور معاشی سرگرمیوں کو بغیر کسی بڑے جھٹکے کے جاری رکھنا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس اور فیصلہ
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ جنوری کے اجلاس کے بعد ملکی معاشی اعشاریے اندازوں کے عین مطابق تھے، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں اچانک بھڑکنے والی جنگ نے عالمی معاشی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے متفقہ طور پر یہ محسوس کیا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ براہِ راست پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کا زیادہ تر انحصار درآمدی ایندھن پر ہے، اس لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے شرح سود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے گریز کیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے کڑی مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی کے طوفان کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانا اور طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ مالیاتی تجزیے کے مطابق، اس قسم کے محتاط اقدامات معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی اثرات
عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی طور پر بھی شدید ہلچل مچا دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کے خطے میں جنگ کے بادلوں نے عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں ایک سو آٹھ ڈالر فی بیرل تک تجاوز کر گئی ہیں، جس نے دنیا بھر میں نقل و حمل اور مال برداری کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خوف نے انشورنس اور شپنگ کمپنیوں کو اپنے ریٹ بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کا براہ راست اثر بین الاقوامی تجارت پر پڑ رہا ہے۔ اس عالمی معاشی عدم استحکام کے سائے پاکستان کی معیشت پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو عالمی سطح پر اجناس اور ایندھن کی سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو جائے گی۔ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی حکمت عملی ترتیب دینا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے کے باعث حکومتِ پاکستان کو بھی انتہائی سخت فیصلے کرنے پڑے۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں پچپن روپے فی لیٹر کا ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت تین سو اکیس روپے سترہ پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس بے مثال اضافے نے ملکی سطح پر ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یکدم اچھال پیدا کر دیا ہے۔ عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ صنعت کاروں کے لیے بھی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ مستقبل قریب میں مزید مہنگائی کو جنم دے سکتا ہے، جس کے باعث افراطِ زر کی شرح کو ہدف کے اندر رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوگا۔
ملکی معیشت پر افراط زر کا دباؤ
مہنگائی یا افراطِ زر کسی بھی معیشت کے لیے ایک خاموش قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، جنوری دو ہزار چھبیس میں مہنگائی کی شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جو فروری میں بڑھ کر سات فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران ملکی معیشت پر تیزی سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو آئندہ مالی سال تک مہنگائی کی شرح سات فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی معیشت کو سخت مالیاتی ڈسپلن کی ضرورت ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور مرکزی بینک کے لیے بھی افراطِ زر کے اہداف کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔
درآمدی بل اور تجارتی خسارے کے خدشات
پاکستان کی معیشت بنیادی طور پر درآمدات پر منحصر ہے، خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات اور مشینری کے حوالے سے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے معاشی تجزیوں کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ہونے والا ہر دس ڈالر فی بیرل اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا سالانہ بوجھ ڈال دیتا ہے، اور مہنگائی کی شرح میں بھی بیس بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں جب تیل کی قیمتیں عروج پر ہیں، تجارتی خسارے کے بڑھنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوری کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن اگر عالمی قیمتوں کا رجحان یہی رہا تو تجارتی خسارہ دوبارہ بے قابو ہو سکتا ہے۔ اس سے ملکی کرنسی یعنی روپے پر شدید دباؤ پڑے گا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ
ان تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ نے ایک سو اکیس ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا ہے، جس نے معاشی حلقوں میں کسی حد تک اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے۔ مزید برآں، سٹیٹ بینک کی مسلسل انٹربینک خریداری اور ترسیلاتِ زر کی بدولت ستائیس فروری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سولہ اعشاریہ تین ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک نے جون دو ہزار چھبیس تک ان ذخائر کو اٹھارہ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان ذخائر میں اضافہ ملکی معیشت کو بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے ایک مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے اور ڈیفالٹ کے خطرات کو کافی حد تک کم کر دیتا ہے۔ تازہ ترین ملکی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہیں۔
| معاشی اعشاریے | موجودہ حیثیت (مارچ 2026) |
|---|---|
| بنیادی شرح سود (پالیسی ریٹ) | 10.5 فیصد |
| زرمبادلہ کے ذخائر (ایف ایکس) | 16.3 ارب ڈالر |
| مہنگائی کی شرح (فروری) | 7.0 فیصد |
| پٹرول کی قیمت میں اضافہ | 55 روپے فی لیٹر |
| معاشی ترقی کی متوقع شرح | 3.75 – 4.75 فیصد |
معاشی ترقی کی شرح کے امکانات
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنی پیشین گوئی میں کہا ہے کہ موجودہ مالی سال دو ہزار چھبیس کے لیے ملکی معاشی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) تین اعشاریہ پچہتر فیصد سے لے کر چار اعشاریہ پچہتر فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ یہ تخمینہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں ایک مستحکم نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ شرح نمو مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ملکی معیشت کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے اور توانائی کے بحران میں شدت آتی ہے تو معاشی ترقی کی یہ شرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دے اور برآمدات بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔
زرعی اور صنعتی شعبے کی کارکردگی
ملکی ترقی میں زرعی اور صنعتی شعبے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ (بڑے پیمانے کی صنعتوں) نے چار اعشاریہ آٹھ فیصد کی شاندار نمو دکھائی ہے۔ اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں گندم کی بوائی کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے اور موسمی حالات بھی فصلوں کے لیے انتہائی سازگار رہے ہیں۔ ان دونوں شعبوں کی مثبت کارکردگی نے ہول سیل، ریٹیل اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو بھی متحرک کیا ہے۔ اگر صنعتوں کو بلا تعطل اور مناسب قیمتوں پر توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو صنعتی پیداوار میں مزید بے پناہ اضافہ ممکن ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں اور تاجروں کا ردعمل
سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر معاشی تجزیہ کاروں، صنعت کاروں اور تاجر برادری کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ اور جے ایس گلوبل جیسے نمایاں مالیاتی اداروں نے اس فیصلے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ جے ایس گلوبل کے ماہر وقاص غنی کے مطابق پاکستان جیسی درآمدی معیشت کے لیے بلند تیل کی قیمتیں روپے پر شدید دباؤ ڈالتی ہیں، اس لیے شرح سود کو کم کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب، صنعت کاروں کے ایک بڑے طبقے کا ماننا ہے کہ دس اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح سود کاروباری لاگت کو بے تحاشا بڑھا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی اور گیس کے ساتھ ساتھ بلند شرح سود کی موجودگی میں ملکی صنعتوں کا عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروبار دوست پالیسیاں وضع کی جائیں۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے کاروباری خبریں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
مالیاتی پالیسی اور مستقبل کی حکمت عملی
ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سٹیٹ بینک نے حکومت کو سخت مالیاتی پالیسی اپنانے اور ساختیاتی اصلاحات (سٹرکچرل ریفارمز) میں تیزی لانے کا مشورہ دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولی کی شرح اگرچہ بڑھی ہے لیکن یہ اب بھی مقررہ اہداف سے کافی پیچھے ہے۔ جولائی سے فروری کے دوران ٹیکس وصولیوں میں محض دس اعشاریہ چھ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ مطلوبہ سالانہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر معاشی خود مختاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مزید معلومات اور سرکاری اعداد و شمار کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی باضابطہ ویب سائٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
نتیجہ اور اختتامیہ
مختصراً یہ کہ سٹیٹ بینک کا حالیہ فیصلہ ملکی معیشت کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ مشرق وسطیٰ کے غیر مستحکم حالات، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کے سائے تلے شرح سود کو دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنا ایک دانش مندانہ اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ذرا سی بھی پالیسی کی غلطی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں حکومتی پالیسیوں، زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور عالمی منڈی کے رجحانات پر ہی ملکی معیشت کے مستقبل کا دارومدار ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور سٹیٹ بینک مل کر طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کریں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے اور ملک پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Leave a Reply