بی آئی ایس پی نئی رجسٹریشن 2026 پاکستان بھر میں انتہائی مستحق اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا ایک انتہائی اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ موجودہ دور میں جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور معاشی حالات دن بدن سخت ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب عوام کے لیے امید کی ایک بہت بڑی کرن ہے۔ یہ پروگرام خصوصی طور پر ان خاندانوں کے لیے وضع کیا گیا ہے جو اپنی روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اور جن کا ذریعہ معاش انتہائی محدود ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی مالی امداد سے لاکھوں خاندانوں کو ریلیف مل رہا ہے اور اب اس نئے مرحلے میں ان تمام افراد کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ماضی میں کسی وجہ سے اس پروگرام کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔ حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی مستحق خاندان اس حق سے محروم نہ رہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم آپ کو اس پروگرام میں شمولیت، اہلیت کے معیار اور درخواست جمع کرانے کے تمام مراحل سے مکمل طور پر آگاہ کریں گے۔
بی آئی ایس پی نئی رجسٹریشن 2026 کا پس منظر اور اہمیت
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز دو ہزار آٹھ میں کیا گیا تھا اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مستند سماجی تحفظ کا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی اس پروگرام کی شفافیت اور غریب عوام تک براہ راست مالی امداد پہنچانے کے طریقہ کار کو بے حد سراہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس پروگرام میں متعدد تبدیلیاں اور جدت لائی گئی ہے تاکہ حق داروں کا تعین زیادہ شفاف اور سائنسی بنیادوں پر کیا جا سکے۔ موجودہ معاشی چیلنجز، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرامز اور افراط زر کے باعث پاکستان میں غربت کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سماجی تحفظ کے اس دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں غریب طبقے کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ نئے مرحلے کا بنیادی مقصد مستحقین کی درست نشاندہی کرنا اور پرانے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کرنا ہے تاکہ وہ لوگ جن کے معاشی حالات بہتر ہو چکے ہیں انہیں فہرست سے نکال کر نئے اور حقیقی مستحقین کو شامل کیا جا سکے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بنیادی ساخت
اس پروگرام کی بنیادی ساخت ایک انتہائی منظم اور مربوط نظام پر استوار ہے۔ یہ وفاقی سطح پر کام کرنے والا ادارہ ہے جس کے علاقائی اور تحصیل سطح پر دفاتر موجود ہیں۔ اس نظام کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ساتھ مکمل طور پر منسلک کیا گیا ہے تاکہ ہر فرد کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی جعل سازی کی گنجائش نہ رہے۔ نادرا کے ذریعے مستحقین کی بائیو میٹرک تصدیق کی جاتی ہے جس کے بعد ہی انہیں مالی امداد کی ادائیگی عمل میں لائی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ رقوم براہ راست مستحق فرد کے ہاتھ میں پہنچیں اور درمیان میں کوئی بھی غیر متعلقہ شخص یا ادارہ اس میں خرد برد نہ کر سکے۔
بی آئی ایس پی نئی رجسٹریشن 2026 کے لیے اہلیت کا معیار
حکومت پاکستان کی جانب سے اس پروگرام میں شمولیت کے لیے ایک سخت لیکن انتہائی منصفانہ اہلیت کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ اس معیار کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ امداد ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی اس کے حق دار ہیں۔ اس پروگرام کے لیے وہ تمام خاندان اہل سمجھے جاتے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی انتہائی کم ہے، جو ذاتی مکان یا گاڑی کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی فرد سرکاری ملازمت کر رہا ہے۔ ایسے افراد جو بیرون ملک سفر کر چکے ہیں، جن کے نام پر زیادہ زرعی اراضی ہے یا جو بڑے کاروباری اثاثوں کے مالک ہیں، وہ اس پروگرام کے لیے قطعی طور پر نااہل تصور کیے جاتے ہیں۔ حکومت نے ایسے شفاف فلٹرز لگا رکھے ہیں جو نادرا اور دیگر ملکی اداروں کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہیں جس کی وجہ سے غیر مستحق افراد خود بخود سسٹم سے خارج ہو جاتے ہیں۔
غربت کے اسکور (پی ایم ٹی) کی شرط
اہلیت کا تعین کرنے کے لیے سب سے اہم عنصر ‘پروکسی مینز ٹیسٹ’ (پی ایم ٹی) اسکور ہے۔ یہ ایک ایسا سائنسی اور شماریاتی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کسی بھی خاندان کی معاشی حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جب کوئی خاندان سروے میں شامل ہوتا ہے تو ان سے ان کے گھر کی ساخت، ارکان کی تعداد، زیر کفالت افراد، بجلی اور گیس کے بلوں کی تفصیلات اور استعمال ہونے والی اشیاء کے بارے میں معلومات لی جاتی ہیں۔ ان تمام معلومات کو ایک کمپیوٹرائزڈ نظام میں فیڈ کیا جاتا ہے جو خودکار طریقے سے اس خاندان کا غربت کا اسکور (پی ایم ٹی اسکور) تیار کرتا ہے۔ عام طور پر جن خاندانوں کا اسکور بتیس یا اس سے کم ہوتا ہے انہیں پروگرام کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے، تاہم حکومت وقت کے ساتھ ساتھ معاشی حالات کے پیش نظر اس اسکور کی حد میں ردو بدل کرتی رہتی ہے۔
مستحق خواتین کے لیے خصوصی ہدایات
اس پروگرام کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت دی جانے والی تمام مالی امداد خاندان کی سربراہ خاتون کے نام پر جاری کی جاتی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد معاشرے میں خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانا اور خاندان کی فلاح و بہبود میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔ اس امداد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ خاتون کے پاس نادرا کا جاری کردہ کارآمد قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔ وہ خواتین جو بیوہ ہیں یا جن کے شوہر معذور ہیں، انہیں رجسٹریشن کے عمل میں خصوصی ترجیح دی جاتی ہے تاکہ انہیں فوری طور پر سماجی تحفظ کے دائرے میں لایا جا سکے۔
رجسٹریشن کا مکمل اور تفصیلی طریقہ کار
وہ تمام افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس پروگرام کے لیے اہل ہیں لیکن تاحال انہیں کوئی امداد نہیں مل رہی، وہ باآسانی اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کا یہ عمل بالکل مفت اور نہایت آسان ہے۔ مستحقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے قریبی تحصیل دفتر میں قائم رجسٹریشن سینٹر پر تشریف لائیں۔ دفتر پہنچنے پر انہیں ایک ٹوکن جاری کیا جاتا ہے جس کے بعد متعلقہ ڈیسک پر ان کی بائیو میٹرک تصدیق کی جاتی ہے۔ تصدیق کے بعد نمائندہ ان سے ان کے خاندان، معاشی حالات اور اثاثوں کے حوالے سے چند اہم سوالات پوچھتا ہے اور یہ تمام معلومات براہ راست سسٹم میں درج کی جاتی ہیں۔
بی آئی ایس پی ڈائنامک رجسٹری کے ذریعے اندراج
ماضی میں یہ سروے گھر گھر جا کر کیا جاتا تھا جو کہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا، لیکن اب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے ‘ڈائنامک رجسٹری’ کا نظام متعارف کروایا ہے۔ ڈائنامک رجسٹری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ سارا سال کام کرتی ہے۔ کسی بھی خاندان میں ہونے والی تبدیلیوں مثلاً شادی، طلاق، پیدائش یا موت کی صورت میں اس رجسٹری کے ذریعے خاندان کے ریکارڈ کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام کی بدولت اب کسی کو سروے ٹیموں کا انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ کسی بھی وقت قریبی دفتر جا کر اپنی معلومات درج یا اپ ڈیٹ کروا سکتے ہیں۔
این ایس ای آر سروے کی اہمیت اور ضرورت
نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) دراصل پورے پاکستان کے معاشی اور سماجی اعداد و شمار کا ایک بہت بڑا اور مستند ڈیٹا بیس ہے۔ رجسٹریشن کے دوران حاصل کی گئی تمام معلومات اسی ڈیٹا بیس کا حصہ بنتی ہیں۔ اس سروے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نہ صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بلکہ حکومت کے دیگر فلاحی منصوبے، صحت کارڈ، اور راشن پروگرامز بھی مستحقین کا تعین کرنے کے لیے اسی ڈیٹا بیس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سروے کے دوران بالکل درست اور سچی معلومات فراہم کی جائیں۔
رجسٹریشن کے لیے درکار ضروری دستاویزات کی تفصیل
رجسٹریشن کے عمل کو کامیاب اور بلا تعطل مکمل کرنے کے لیے درخواست گزار کے پاس تمام ضروری دستاویزات کا ہونا لازمی ہے۔ ان دستاویزات میں سب سے اہم نادرا کا جاری کردہ اصلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے تمام بچوں کا ب فارم بھی درکار ہوتا ہے تاکہ خاندان کے ارکان کی درست تعداد کا تعین کیا جا سکے۔ اگر درخواست گزار خاتون بیوہ ہے تو اسے اپنے شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ساتھ لانا چاہیے اور اگر خاندان کا کوئی فرد معذور ہے تو اس کا خصوصی معذوری کا سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ پیش کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک فعال اور رجسٹرڈ موبائل نمبر بھی فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ دفتر کی جانب سے کسی بھی قسم کی پیش رفت کی صورت میں بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا جا سکے۔
بی آئی ایس پی کے تحت ملنے والی مالی امداد کی تفصیلات
حکومت کی جانب سے اس پروگرام کے تحت مستحقین کو ہر تین ماہ بعد نقد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وقتاً فوقتاً اس امدادی رقم میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہے تاکہ غریب خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ رقوم کی منتقلی کا نظام انتہائی شفاف ہے۔ یہ ادائیگیاں مخصوص بینکوں کے بائیو میٹرک اے ٹی ایمز اور مجاز ریٹیلرز کے ذریعے کی جاتی ہیں تاکہ مستحق خاتون اپنا شناختی کارڈ اور انگوٹھے کا نشان استعمال کرتے ہوئے باآسانی اپنی رقم وصول کر سکے۔ ذیل میں اس پروگرام کے تحت چلنے والے مختلف منصوبوں اور ان کے دائرہ کار کی تفصیل دی جا رہی ہے:
| پروگرام کا نام | ہدف اور مستحقین | مالی امداد کا طریقہ |
|---|---|---|
| بے نظیر کفالت پروگرام | انتہائی غریب اور مستحق خواتین | ہر سہ ماہی کے بعد نقد رقم کی براہ راست فراہمی |
| بے نظیر تعلیمی وظائف | مستحق خاندانوں کے زیر تعلیم بچے (لڑکے اور لڑکیاں) | اسکول اور کالج کی 70 فیصد حاضری سے مشروط وظیفہ |
| بے نظیر نشوونما پروگرام | حاملہ خواتین اور دو سال تک کی عمر کے شیر خوار بچے | صحت کی سہولیات کی فراہمی اور اضافی غذائی وظیفہ |
بے نظیر تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگرام
بے نظیر کفالت پروگرام کے ساتھ ساتھ حکومت نے تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی غریب عوام کی مدد کے لیے شاندار اقدامات کیے ہیں۔ ‘بے نظیر تعلیمی وظائف’ ایک ایسا مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام ہے جس کا مقصد مستحق خاندانوں کے بچوں کو اسکول لانا اور ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے سے بچانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پرائمری سے لے کر ہائر سیکنڈری سطح تک کے طلباء و طالبات کو سہ ماہی وظائف دیے جاتے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کا وظیفہ لڑکوں کی نسبت قدرے زیادہ رکھا گیا ہے۔ اس امداد کی واحد شرط یہ ہے کہ بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم ستر فیصد ہونی چاہیے۔ دوسری جانب ‘بے نظیر نشوونما پروگرام’ کا مقصد حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کی صحت کو بہتر بنانا اور بچوں میں غذائی قلت کو دور کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مستحق ماؤں اور ان کے بچوں کو اضافی غذائی پیکٹس فراہم کیے جاتے ہیں اور حفاظتی ٹیکوں کے کورس کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ ملک میں بچوں کی شرح اموات اور قد کے چھوٹے رہ جانے جیسی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔
عوام کو درپیش مسائل اور شکایات کا بروقت ازالہ
اتنے بڑے پیمانے پر چلنے والے پروگرام میں عوام کو بعض اوقات مختلف قسم کی مشکلات اور مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل میں سب سے عام مسئلہ انگلیوں کے نشانات (بائیو میٹرک) کا تصدیق نہ ہونا ہے۔ چونکہ مستحق خواتین میں سے بیشتر کا تعلق دیہی علاقوں اور محنت کش طبقے سے ہوتا ہے، اس لیے ان کے انگوٹھے کے نشانات مٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے مشین انہیں شناخت کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت نے نادرا کی مدد سے خصوصی طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے تحت ایسی خواتین اپنا مسئلہ قریبی دفتر میں رپورٹ کر کے متبادل طریقے سے اپنی امداد حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات ایجنٹس یا دکاندار مستحقین کی لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی رقوم میں سے غیر قانونی کٹوتی کر لیتے ہیں۔ حکومت نے ایسی شکایات پر سختی سے نوٹس لیا ہے اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی کٹوتی کی صورت میں فوری طور پر ہیلپ لائن پر شکایت درج کروائیں۔ فراڈ اور دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے عوام کو بار بار آگاہ کیا جاتا ہے کہ اس پروگرام کی جانب سے تمام آفیشل پیغامات صرف اور صرف 8171 سے بھیجے جاتے ہیں۔ کسی بھی دوسرے عام نمبر سے آنے والے میسجز کہ ‘آپ کا انعام نکلا ہے’ مکمل طور پر جعلی ہوتے ہیں اور ان پر ہرگز دھیان نہیں دینا چاہیے۔ مزید مستند معلومات، تازہ ترین اپ ڈیٹس اور اپنی اہلیت کی آن لائن تصدیق کے لیے آپ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ حکومت پاکستان کا یہ پروگرام معاشرے کے پسماندہ طبقات کو اوپر لانے اور انہیں معاشی دھارے میں شامل کرنے کا ایک بہترین اور قابل تحسین ذریعہ ہے، جس کے ثمرات آنے والے سالوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔

Leave a Reply