امریکہ اسرائیل ایران تنازعہ موجودہ دور کے سب سے پیچیدہ، حساس اور خطرناک جغرافیائی و سیاسی مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ تنازعہ صرف تین ممالک کی سرحدوں اور ان کے براہ راست مفادات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے پورے خطے پر انتہائی گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی سیاست کے ماہرین اور مبصرین اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست ایک بڑی علاقائی یا عالمی جنگ کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔ ہم اس تفصیلی اور جامع رپورٹ میں اس تنازعے کے مختلف پہلوؤں، تاریخی پس منظر، اور حالیہ پیش رفت کا گہرائی سے جائزہ لیں گے تاکہ قارئین کو اس اہم مسئلے کی مکمل تفہیم ہو سکے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے واقعات نے اس کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ اور اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے اقدامات نے ایران کے لیے خطرے کی سنگین گھنٹی بجا دی ہے۔ دوسری جانب، ایران بھی اپنے دفاعی، عسکری اور خاص طور پر بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں اسلحے کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال اس قدر کشیدہ ہو چکی ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر عسکری نقل و حرکت اور تند و تیز سفارتی بیانات کا تبادلہ ایک معمول بن گیا ہے۔
یہ تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں دہائیوں پرانی تاریخی رقابتوں، نظریاتی اختلافات اور تزویراتی مفادات کے تصادم میں پیوست ہیں۔ تاہم، جدید عسکری ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر کے استعمال، جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری کے خدشات، اور بڑی بین الاقوامی طاقتوں کی براہ راست مداخلت نے اسے پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا یہ خطہ جو پہلے ہی کئی دہائیوں سے مسلسل جنگوں، اندرونی خلفشار اور عدم استحکام کا شکار ہے، اب ایک اور بڑی اور ممکنہ طور پر تباہ کن تباہی کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ اس تناظر میں ہر آنے والا دن ایک نئی غیر یقینی صورتحال لے کر آ رہا ہے جس کے عالمی اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکتا۔
مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اور امریکہ کا کردار
مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں امریکہ کا کردار ہمیشہ سے ایک مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت کا حامل رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی امریکہ نے اس خطے کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں خطے کے وسیع توانائی کے وسائل، اہم آبی گزرگاہوں کی حفاظت، اور سب سے بڑھ کر ریاست اسرائیل کا غیر متزلزل تحفظ شامل ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب ایران ایک بڑی علاقائی طاقت بن کر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے، امریکہ کے لیے اپنے ان سٹریٹجک اہداف کا تحفظ مزید مشکل اور چیلنجنگ ہو گیا ہے۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کے لیے بحیرہ روم، خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں اپنے بحری بیڑوں اور فوجی اڈوں کی تعداد اور فعالیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
امریکی پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن صرف اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے جب تک امریکہ اپنی بھرپور عسکری اور سفارتی طاقت کے ساتھ موجود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو جدید ترین ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کی فراہمی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کا مقصد ایران کو علاقائی معاملات میں زیادہ مداخلت سے باز رکھنا ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ حد سے زیادہ عسکری موجودگی بعض اوقات خطے میں مزید اشتعال انگیزی اور عدم استحکام کا باعث بھی بنتی ہے، جس سے امن کی کوششوں کو دھچکا لگتا ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کے خدوخال اور عسکری حکمت عملی
امریکی خارجہ پالیسی کے موجودہ خدوخال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی بنیادی حکمت عملی ایک طرف تو جارحانہ عسکری ڈیٹرنس (خوف کے ذریعے باز رکھنا) پر مبنی ہے اور دوسری جانب سفارتی تنہائی کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی عسکری حکمت عملی کا مرکز یہ ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری اور تباہ کن جوابی کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیاروں، میزائل شکن نظاموں، اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو پورے خطے میں انتہائی مربوط اور فعال کر رکھا ہے۔ مزید برآں، پینٹاگون کی جانب سے وقتاً فوقتاً کی جانے والی عسکری مشقیں بھی دراصل ایران اور دیگر مخالف قوتوں کے لیے طاقت کا ایک واضح پیغام ہوتی ہیں۔
تاہم، اس جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ ساتھ امریکہ بعض مواقع پر پس پردہ سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ جنگ کسی بھی صورت میں واشنگٹن کے طویل مدتی مفاد میں نہیں ہے کیونکہ اس سے امریکی معیشت اور عالمی وسائل پر زبردست بوجھ پڑے گا۔ اس لیے امریکی پالیسی کا جھکاؤ ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کے تحت اقتصادی پابندیوں اور سفارتی بائیکاٹ کی طرف بھی ہے، تاکہ جنگ کی نوبت آئے بغیر ہی مخالف فریق کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ دوغلی مگر انتہائی نپی تلی حکمت عملی موجودہ دور کی عالمی سیاست کا ایک اہم ترین جزو بن چکی ہے۔
اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی تحفظات
اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد ہمیشہ سے پیشگی حملے (Pre-emptive Strike) اور ناقابل تسخیر دفاع کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ اسرائیل اپنے اطراف میں موجود خطرات کو کبھی بھی معمولی نہیں سمجھتا اور خاص طور پر ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کو وہ اپنی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے اسرائیل نے اپنے دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ، اور ایرو میزائل ڈیفنس سسٹم جیسے جدید ترین اور انتہائی مہنگے فضائی دفاعی نظاموں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ اسے ہر حال میں خطے میں عسکری برتری حاصل ہونی چاہیے، تاکہ کوئی بھی دشمن اس پر حملے کی جرات نہ کر سکے۔
اسرائیل کے علاقائی تحفظات میں سب سے بڑا مسئلہ اس کے پڑوس میں موجود ایران کی پراکسی تنظیمیں اور ان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن میں موجود مسلح گروہ اسرائیل کے لیے ایک مسلسل درد سر بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور عسکری کمانڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ ان تنظیموں کو براہ راست تہران سے ملنے والی مالی اور عسکری مدد اسرائیل کی سرحدوں پر ایک ایسا حصار قائم کر رہی ہے جسے توڑنا ناگزیر ہے۔ اسی لیے اسرائیل آئے روز شام اور دیگر پڑوسی ممالک میں ان تنظیموں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتا رہتا ہے تاکہ ان کی سپلائی لائنز کو کاٹا جا سکے اور ان کی طاقت کو محدود کیا جا سکے۔
اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات اور ان کا تجزیہ
اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات کا اگر تفصیلی تجزیہ کیا جائے تو ان میں ایک واضح جارحیت اور حتمی وارننگ کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم سے لے کر وزیر دفاع تک، سب کا متفقہ اور دو ٹوک مؤقف یہ رہا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے اس کے لیے اسرائیل کو اکیلے ہی کوئی بڑی عسکری کارروائی کیوں نہ کرنی پڑے۔ یہ بیانات صرف سیاسی نعرے نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک گہری عسکری تیاری اور حکمت عملی کارفرما ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام نے کئی بار اشارتاً یہ بھی کہا ہے کہ ان کی افواج ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ ڈرلز اور مشقیں کی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب، ان بیانات کا مقصد اپنے عوام کو اعتماد میں لینا اور خطے میں اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کرنا بھی ہے۔ اسرائیل یہ جانتا ہے کہ ایک مکمل اور طویل جنگ کی صورت میں اسے بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے قیادت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بیانات کے ذریعے دباؤ کی ایسی فضا قائم کی جائے جو بین الاقوامی برادری کو حرکت میں لانے کے لیے کافی ہو۔ اسرائیل کی یہ ‘منطقی پاگل پن’ (Madman Theory) جیسی حکمت عملی بعض اوقات بہت کارگر ثابت ہوتی ہے، جس سے عالمی طاقتیں مجبور ہو کر ایران پر دباؤ بڑھاتی ہیں تاکہ اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ یکطرفہ کارروائی سے روکا جا سکے۔
ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں کا اثر
ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر ایک انتہائی متنازعہ اور سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایران کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد، خاص طور پر توانائی کے حصول اور طبی تحقیق کے لیے ہے۔ تاہم، امریکہ، اسرائیل اور کئی مغربی ممالک کو شک ہے کہ ایران کے اس پروگرام کا خفیہ مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ان کا حصول ہے۔ اس شک کی بنیاد پر 2015 میں طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کی 2018 میں یکطرفہ علیحدگی کے بعد، صورتحال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے۔ اس کے بعد سے ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے، جو عالمی برادری کے لیے خطرے کی ایک بہت بڑی علامت بن چکا ہے۔
بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کی معیشت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی، غیر ملکی زرمبادلہ تک رسائی میں رکاوٹیں، اور عالمی تجارتی نظام سے الگ تھلگ ہونے کے باعث ایرانی کرنسی کی قدر میں بے پناہ کمی واقع ہوئی ہے۔ ان پابندیوں نے نہ صرف ایران کی اقتصادی ترقی کو روکا ہے بلکہ عوام کی زندگیاں بھی اجیرن کر دی ہیں۔ مہنگائی کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے اور بے روزگاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، اس تمام تر معاشی دباؤ کے باوجود، ایران کی قیادت نے اپنی مزاحمتی معیشت کی پالیسی کے تحت اپنے عسکری اور جوہری پروگرامز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزید سخت گیر مؤقف اپنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔
خطے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا ابھرتا ہوا کردار
مشرق وسطیٰ میں ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ کا ایک بہت بڑا حصہ اس کی حمایت یافتہ پراکسی تنظیموں پر مبنی ہے، جو خطے کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان مسلح تنظیموں کو اکثر ‘محورِ مزاحمت’ (Axis of Resistance) کا نام دیا جاتا ہے۔ ان میں لبنان میں موجود طاقتور ملیشیا حزب اللہ، فلسطین میں حماس اور اسلامک جہاد، شام میں موجود مختلف شیعہ جنگجو گروپ، عراق میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے مختلف دھڑے، اور یمن میں حوثی باغی شامل ہیں۔ یہ نیٹ ورک ایران کو ایک بے مثال اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں، خاص طور پر اسرائیل اور امریکہ، کو براہ راست نشانہ بنائے بغیر ان پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
یہ مسلح تنظیمیں نہ صرف عسکری طور پر انتہائی مضبوط ہو چکی ہیں بلکہ اب یہ جدید ہتھیاروں، ڈرونز اور گائیڈڈ میزائلوں سے بھی لیس ہیں۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی اور جنگی جہازوں پر حالیہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران کے اتحادی خطے کی سکیورٹی اور عالمی تجارت کو کس حد تک متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس پراکسی وارفیئر نے روایتی جنگ کے تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے اب صرف ایران کی باقاعدہ فوج سے نمٹنا ہی چیلنج نہیں ہے، بلکہ مختلف محاذوں پر پھیلے ہوئے ان غیر ریاستی عناصر کو کنٹرول کرنا اس سے بھی بڑا درد سر بن چکا ہے، جو کسی بھی وقت ایک نیا محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کی تفصیل
اگر امریکہ اسرائیل ایران تنازعہ ایک کھلی اور وسیع جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو اس کے عالمی معیشت پر انتہائی ہولناک اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ مشرق وسطیٰ عالمی معیشت کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے تیل کا ایک بہت بڑا حصہ آبنائے ہرمز اور دیگر قریبی سمندری راستوں سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی، خلیج کی ناکہ بندی، یا تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل کا یہ نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اضافہ دیکھنے میں آئے گا، جو 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کا براہ راست اثر دنیا بھر کے ممالک کی معیشتوں پر پڑے گا۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آئے گا جسے سنبھالنا حکومتوں کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی پیداوار کے اخراجات میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی اور دنیا ایک طویل معاشی کساد بازاری (Recession) کی زد میں آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور معاشی ماہرین اس خطے کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ جنگ کے کسی بھی امکان کو عالمی معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا اور خطرناک خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
| ملک / فریق | دفاعی بجٹ کا تخمینہ | فوجی طاقت اور حجم کی نوعیت | کلیدی اتحادی اور حمایتی |
|---|---|---|---|
| اسرائیل | تقریباً 24 بلین ڈالر | انتہائی جدید اور تکنیکی لحاظ سے برتر فضائی، زمینی اور بحری فوج | امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک |
| ایران | تقریباً 10 بلین ڈالر | بڑی تعداد پر مشتمل زمینی فوج، پاسداران انقلاب، اور پراکسی نیٹ ورک | روس، چین، شام، اور علاقائی مسلح گروہ |
| امریکہ (علاقائی فورسز) | بے شمار (عالمی سپر پاور کے وسائل) | مشرق وسطیٰ میں بکھرے ہوئے درجنوں فوجی اڈے اور جدید ترین بحری بیڑے | اسرائیل، نیٹو ممالک اور مختلف خلیجی ریاستیں |
سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی برادری کا مؤقف
اس بڑھتے ہوئے بحران کو ٹالنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس کے مطابق، یورپی یونین، روس، چین، اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام مسلسل فریقین سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی بڑی جنگ سے بچا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر درجنوں ہنگامی اجلاس ہو چکے ہیں، جن میں تمام رکن ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ چین اور روس، جن کے ایران کے ساتھ بہتر اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں، ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے بجائے مسئلے کا حل صرف اور صرف بامعنی مذاکرات اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔
دوسری جانب یورپی ممالک کا مؤقف تھوڑا سا ملا جلا ہے۔ وہ ایک طرف تو اسرائیل کی سلامتی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں اور ایران کے پراکسی نیٹ ورک کی مذمت کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب وہ اس بات سے بھی خوفزدہ ہیں کہ خطے میں جنگ چھڑنے کی صورت میں مہاجرین کا ایک نیا سیلاب یورپ کا رخ کر سکتا ہے۔ اسی لیے فرانس، جرمنی، اور برطانیہ پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور کشیدگی کم کرنے کی راہ نکالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی اور دیرینہ اختلافات کے باعث یہ سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی اور پائیدار حل تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔
مستقبل کا منظر نامہ: کیا جنگ ناگزیر ہے یا مذاکرات ممکن ہیں؟
اگر مستقبل کے منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال دو انتہائی متضاد راستوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ پہلا راستہ براہ راست اور ہولناک جنگ کا ہے، جو کسی ایک چھوٹی سی غلطی، غلط فہمی یا اشتعال انگیز واقعے سے چھڑ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ ہو گی جس میں خطے کا کوئی بھی ملک براہ راست یا بالواسطہ شامل ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ میزائلوں کی بارش، شہروں کی تباہی، اور معاشی بربادی اس جنگ کا ناگزیر نتیجہ ہوں گے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس صورت میں فاتح کوئی نہیں ہوگا، بلکہ پوری دنیا کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور خطہ کئی دہائیوں پیچھے چلا جائے گا۔
دوسرا اور زیادہ پرامید راستہ، سفارت کاری کی کامیابی اور ایک نئے، جامع معاہدے کا ہے۔ اگرچہ اس وقت اس کی امید کم نظر آتی ہے، لیکن عالمی طاقتوں کے دباؤ، ملکی معیشتوں کی نزاکت، اور جنگ کی تباہ کاریوں کے خوف سے، آخر کار فریقین مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی معاہدہ جس میں تمام فریقین کے سکیورٹی خدشات کا ازالہ ہو، ایران کی معیشت کو سانس لینے کا موقع ملے، اور اسرائیل کو اپنے وجود کے تحفظ کی ضمانت دی جائے، ہی اس خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ مشرق وسطیٰ کی اس شطرنج کی بساط پر اگلی چال تباہی کی طرف لے جاتی ہے یا بالآخر عقل و فہم کی فتح ہوتی ہے اور امن کا سورج طلوع ہوتا ہے۔

Leave a Reply