آئی ایم ایف پاکستان ٹیکس اصلاحات: معیشت کی بحالی اور عوام پر اثرات کا تفصیلی جائزہ

آئی ایم ایف پاکستان ٹیکس اصلاحات موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع بن چکا ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے معاشی عدم استحکام، بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے، اور غیر ملکی قرضوں کے بے پناہ بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے سخت ترین شرائط عائد کی گئی ہیں جن کا براہ راست ہدف ملکی ٹیکس کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، دستاویزی معیشت کو فروغ دینا، اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرتے ہوئے براہ راست ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ اگرچہ ماہرین اقتصادیات ان اقدامات کو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، تاہم قلیل مدت میں ان کے باعث عام آدمی کی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ، قوت خرید میں نمایاں کمی، اور کاروباری سرگرمیوں میں واضح سست روی وہ چیلنجز ہیں جن کا سامنا اس وقت پوری قوم کو ہے۔ موجودہ دور میں ان پیچیدہ معاشی خبروں اور اپ ڈیٹس کو سمجھنا ہر شہری اور کاروباری فرد کے لیے انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

آئی ایم ایف پاکستان ٹیکس اصلاحات: ایک تفصیلی جائزہ

پاکستان کی معاشی تاریخ میں متعدد بار عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کیا گیا ہے، تاہم حالیہ توسیعی فنڈ سہولت (ایف ای ایف) پروگرام پچھلے تمام پروگراموں سے کئی لحاظ سے منفرد اور سخت ترین ہے۔ اس پروگرام کی منظوری کے ساتھ ہی حکومت پر یہ لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے محصولات کے اہداف کو ہر صورت حاصل کرے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیکس جمع کرنے کے لیے تاریخی اعتبار سے بلند ترین اہداف تفویض کیے گئے ہیں۔ ان اہداف کے حصول کے لیے حکومت کو نہ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا پڑ رہا ہے بلکہ ان شعبوں کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر اس سے باہر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا واضح مؤقف ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی جب تک کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب ایک قابل قبول سطح تک نہ پہنچ جائے۔ اس تناظر میں مختلف قسم کی چھوٹ، استثنیٰ، اور مراعات کو یکسر ختم کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مختلف صنعتوں اور شعبہ جات میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ مزید برآں، یہ اصلاحات صرف مرکز تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ صوبائی حکومتوں کو بھی پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے حصے کے محصولات جمع کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں، خاص طور پر زراعت اور پراپرٹی کے شعبوں میں جو کہ صوبائی دائرہ کار میں آتے ہیں۔

ٹیکس اہداف اور حکومتی حکمت عملی کا نیا دور

نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے ٹیکس وصولی کا ایک ایسا ہدف مقرر کیا ہے جسے آزاد ماہرین انتہائی پرجوش قرار دے رہے ہیں۔ اس بے مثال ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کی استعداد کار کو بڑھانے، ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نادہندگان کے خلاف سخت تادیبی کارروائیوں کا ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ حکومتی مالیاتی پالیسیوں کے مطابق، اس حکمت عملی کا مرکز ان تمام خامیوں کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے ہر سال کھربوں روپے کا ٹیکس ضائع ہو جاتا ہے۔ تاہم، ان اہداف کے حصول کی راہ میں بے شمار انتظامی، سیاسی، اور معاشی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اگر معاشی ترقی کی شرح توقعات سے کم رہتی ہے تو ان اہداف کا حصول تقریباً ناممکن ہو جائے گا جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اس نازک توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی محتاط انداز میں قدم اٹھانے پڑ رہے ہیں جہاں ایک طرف اسے بین الاقوامی اداروں کو مطمئن کرنا ہے اور دوسری جانب عوام کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔

براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا موجودہ توازن اور خامیاں

پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کی سب سے بڑی اور خطرناک خامی اس کا بالواسطہ ٹیکسوں پر شدید انحصار ہے۔ بالواسطہ ٹیکس، جیسے کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، کسٹم ڈیوٹی، اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، اپنی نوعیت کے اعتبار سے رجعتی ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ٹیکسوں کا بوجھ غریب اور امیر پر یکساں پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقے کی معاشی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو براہ راست ٹیکسوں، خاص طور پر انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس کی وصولی کو بڑھانا چاہیے۔ تاہم، سیاسی مصلحتوں اور مخصوص مراعات یافتہ طبقات کے اثر و رسوخ کی وجہ سے براہ راست ٹیکسوں کے نظام میں خاطر خواہ اصلاحات لانا ہمیشہ سے ایک مشکل کام رہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں حکومت نے بعض اشیائے ضروریہ پر دی گئی سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کر دیا ہے جس سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جب تک ٹیکس کے نظام میں اس بنیادی تضاد کو دور نہیں کیا جاتا اور صاحب ثروت افراد کو ٹیکس نیٹ میں پوری طرح شامل نہیں کیا جاتا، معاشی عدم مساوات میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔

تنخواہ دار طبقے پر نئے ٹیکسوں کا بے پناہ بوجھ

نئے ٹیکس اقدامات کا سب سے زیادہ اور براہ راست شکار تنخواہ دار طبقہ ہوا ہے، جو پہلے ہی تاریخی مہنگائی، بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں کی وجہ سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت انکم ٹیکس کے سلیبس پر نظر ثانی کی گئی ہے اور کم آمدنی والے افراد کو بھی بھاری ٹیکسوں کے دائرے میں لا کھڑا کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ معیشت کا وہ واحد حصہ ہے جس کے ذمے واجب الادا ٹیکس ان کی تنخواہ ملنے سے پہلے ہی منہا کر لیا جاتا ہے، اس لیے ان کے پاس ٹیکس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اس صورتحال نے متوسط طبقے کی معاشی کمر توڑ دی ہے۔ لوگوں کے لیے بچوں کی تعلیم، صحت اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ کئی اقتصادی تجزیہ کار اس پالیسی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں کہ حکومت ان شعبوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں، آسان ہدف یعنی تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس عدم توازن کی وجہ سے ہنر مند افراد کا بیرون ملک انخلا (برین ڈرین) بھی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جو مستقبل میں ملکی معیشت کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔

معاشی استحکام کی امید یا مہنگائی کا نیا طوفان؟

حکومت اور وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ یہ سخت معاشی فیصلے ملکی معیشت کے طویل مدتی استحکام کے لیے ایک کڑوا گھونٹ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو درست کر لیا جائے تو آنے والے سالوں میں بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہوگا اور شرح سود اور مہنگائی میں کمی آئے گی۔ تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے، سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے، اور شرح سود کو بلند ترین سطح پر رکھنے کی وجہ سے معیشت جمود کا شکار ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال کو اقتصادی اصطلاح میں ‘سٹیگ فلیشن’ کہا جاتا ہے جہاں معاشی ترقی رک جاتی ہے اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو محض محصولات بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دینا چاہیے تاکہ معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچ سکیں۔

مالیاتی اشارے اور اہداف مالی سال 2023-24 کا تخمینہ مالی سال 2024-25 کا مقررہ ہدف معیشت اور عوام پر متوقع اثرات
ایف بی آر ٹیکس ریونیو ٹارگٹ 9,415 ارب روپے 12,970 ارب روپے نئے ٹیکسوں کا نفاذ اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ
ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب 8.5 فیصد 10.2 فیصد دستاویزی معیشت میں وسعت کی کوشش اور تاجروں پر دباؤ
براہ راست ٹیکسوں کا حصہ 42 فیصد 45 فیصد تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر پر اضافی بوجھ
بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ 58 فیصد 55 فیصد عام اشیائے صرف پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا خاتمہ
پٹرولیم لیوی کا ہدف 869 ارب روپے 1,281 ارب روپے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور مجموعی گرانی

آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور ملکی معیشت کی بحالی کے کڑے چیلنجز

پاکستان کے لیے منظور کردہ آئی ایم ایف پروگرام صرف ایک مالیاتی پیکج نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ‘اسٹرکچرل بینچ مارکس’ کی ایک لمبی فہرست منسلک ہے جن پر عمل درآمد ہر صورت لازمی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ان شرائط میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری، روپے کی قدر کا مارکیٹ بیسڈ تعین اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ ان شرائط کی ہر سہ ماہی بنیادوں پر سخت نگرانی کی جاتی ہے اور کسی بھی ایک شرط پر عمل درآمد میں ناکامی کی صورت میں پروگرام کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ یہ خطرہ ہر وقت حکومت کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے طویل مدتی معاشی پالیسیوں کے بجائے وقتی نوعیت کے اقدامات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کڑی شرائط کے سائے میں معیشت کو بحال کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل عمل بن چکا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار اس غیریقینی صورتحال کی وجہ سے اپنا سرمایہ ملک میں لانے سے کتراتے ہیں اور مقامی صنعت کار بھی نئی سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اپنا پیسہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا سنگین مسئلہ اور حل

توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے گردشی قرضے (سرکلر ڈیٹ) پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ناسور بن چکے ہیں۔ لائن لاسز، بجلی کی چوری، ناقص بلنگ اور نااہل انتظامیہ کی وجہ سے یہ قرضے کھربوں روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا اور پرزور مطالبہ یہ رہا ہے کہ حکومت ان قرضوں کا بوجھ اپنے بجٹ پر برداشت کرنے کے بجائے اسے مکمل طور پر صارفین کو منتقل کرے۔ اس مطالبے کے نتیجے میں حکومت نے بجلی اور گیس کے بنیادی ٹیرف میں بار بار اضافہ کیا ہے جس نے گھریلو اور صنعتی صارفین کی چیخیں نکال دی ہیں۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے پاکستان کی برآمدی صنعت خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض نرخ بڑھانے سے گردشی قرضوں کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے بجلی کی ترسیل کے نظام میں شفافیت، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی اور چوری کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔

سرکاری اداروں کی تیز رفتار نجکاری کی طرف پیش رفت

آئی ایم ایف کی جانب سے ایک اور اہم شرط معیشت پر بوجھ بننے والے اور مسلسل خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی فوری نجکاری ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)، پاکستان سٹیل ملز اور مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے اعلانات کیے ہیں، لیکن سیاسی مخالفت، لیبر یونینز کے احتجاج اور شفافیت کے فقدان کی وجہ سے یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔ ان اداروں کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جانے والی سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ نجکاری کا عمل اگر شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے تو نہ صرف حکومت کے مالیاتی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ ان اداروں کی کارکردگی اور خدمات کے معیار میں بھی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

تاجر برادری کا سخت ردعمل اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا

پاکستان میں ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر معیشت کا ایک انتہائی اہم جزو ہے، جو ملکی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ شعبہ ہمیشہ سے ٹیکس نیٹ سے بڑی حد تک باہر رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت ‘تاجر دوست سکیم’ متعارف کرائی ہے جس کا مقصد دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔ تاہم، تاجر برادری کی جانب سے اس سکیم کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ تاجروں کا موقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات، قوت خرید میں کمی اور کاروبار میں مندی کی وجہ سے وہ نئے ٹیکس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ اگر وہ تاجروں کے دباؤ کے سامنے جھک جاتی ہے تو اس کے ٹیکس اہداف کا حصول ناممکن ہو جائے گا، اور اگر وہ سختی کرتی ہے تو سیاسی انتشار کا خطرہ موجود ہے۔ ٹیکس ڈھانچے کے ماڈلز کا گہرا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، کوئی بھی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔

زرعی شعبے پر بھاری ٹیکس لگانے کے مطالبات اور ان کے دور رس اثرات

آئی ایم ایف ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع زرعی آمدنی پر مناسب ٹیکس کا نفاذ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ لیکن قومی خزانے میں زراعت سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی شراکت مایوس کن حد تک کم ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے۔ پاکستان کے آئین کے تحت زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانا صوبائی حکومتوں کا اختیار ہے۔ اس دفعہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں پر بے پناہ دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ قوانین میں ترامیم کریں تاکہ زرعی آمدنی کو عام انکم ٹیکس کے برابر سطح پر لایا جا سکے۔ اس اقدام کے سیاسی اور سماجی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ ملک کی زیادہ تر سیاسی قیادت کا تعلق اسی طبقے سے ہے۔ تاہم معاشی انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام شعبوں سے ان کی آمدنی کے تناسب سے برابری کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے۔

عالمی مالیاتی اداروں کی تشویشناک رپورٹیں اور پاکستان کا معاشی مستقبل

پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر صرف آئی ایم ایف ہی نہیں بلکہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جیسی مستند تنظیمیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان اگرچہ میکرو اکنامک استحکام کی جانب گامزن ہے، لیکن اس کی معاشی بنیادیں تاحال انتہائی کمزور ہیں۔ ان رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو مکمل کرنے میں تاخیر کی گئی تو ملک دوبارہ ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عالمی اداروں کا متفقہ مشورہ ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں اور امداد پر انحصار ختم کرنے کے لیے اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا اور ایک مضبوط اور منصفانہ ٹیکس کا نظام وضع کرنا ہوگا۔

خلاصہ اور موجودہ معاشی صورتحال کا حتمی تجزیہ

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اس وقت اپنے معاشی سفر کے ایک نازک ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ سخت ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی پالیسیاں بلاشبہ قلیل مدت میں عوام اور کاروباری برادری کے لیے تکلیف دہ ہیں اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں معاشی دباؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن اگر معروضی انداز میں جائزہ لیا جائے تو دہائیوں کی معاشی بدانتظامی، غیر متوازن پالیسیوں، اور اصلاحات سے گریز کے رویے نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے جہاں سخت فیصلوں کے سوا کوئی متبادل راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ مستقبل میں حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک ان پالیسیوں کو شفافیت، ایمانداری اور میرٹ پر نافذ کرتی ہے۔ اگر ٹیکس نیٹ کو اشرافیہ، بڑے زمینداروں اور ریٹیل سیکٹر تک مؤثر طریقے سے پھیلا دیا جاتا ہے اور سرکاری اخراجات میں نمایاں کٹوتی کی جاتی ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ معیشت بحالی کی طرف گامزن ہوگی۔ بصورت دیگر، اگر پرانی روش برقرار رہی تو مہنگائی اور بیرونی قرضوں کا یہ شیطانی چکر کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی، عسکری اور معاشی اسٹیک ہولڈرز ایک متفقہ میثاق معیشت (چارٹر آف اکانومی) پر دستخط کریں تاکہ پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے اور ملک حقیقی معنوں میں ترقی کی منازل طے کر سکے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *