یو اے ای اور گابون کے درمیان غیر تیل تجارت میں ریکارڈ اضافہ اور اقتصادی تعاون

یو اے ای اور گابون کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات حالیہ برسوں میں ایک نئے اور متحرک دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے افریقی براعظم کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت، گابون ایک اہم اقتصادی پارٹنر کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف روایتی تجارت تک محدود ہیں بلکہ اب ان میں ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، کان کنی اور پائیدار ترقی جیسے اہم شعبے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں حکومتیں معاشی تنوع اور باہمی انحصار کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔

یو اے ای اور گابون کے تجارتی تعلقات کا تاریخی پس منظر

متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ گابون کے درمیان سفارتی تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم اقتصادی محاذ پر حقیقی تیزی گزشتہ پانچ سالوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ تاریخی طور پر، دونوں ممالک کے تعلقات تیل کی صنعت اور توانائی کے شعبے کے ارد گرد گھومتے تھے کیونکہ دونوں ہی اوپیک (OPEC) کے رکن ممالک ہیں۔ تاہم، عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے دونوں اقوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنی معیشتوں کو تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی وسعت دیں۔

اس تاریخی تبدیلی کا آغاز اس وقت ہوا جب متحدہ عرب امارات نے اپنی ‘افریقہ پالیسی’ کو ازسرنو مرتب کیا اور گابون نے اپنے ‘ایمرجنگ گابون’ (Emerging Gabon) منصوبے کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے۔ اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور سفارتی ملاقاتوں نے اعتماد کی فضا قائم کی، جس نے بعد ازاں تجارتی معاہدوں کی شکل اختیار کی۔ اس تناظر میں، دبئی اور ابوظہبی کے سرمایہ کاروں نے گابون کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں طویل مدتی سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔

غیر تیل تجارت: اعداد و شمار اور ترقی کا تجزیہ

حالیہ رپورٹوں کے مطابق، یو اے ای اور گابون کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چند سالوں میں دوطرفہ غیر تیل تجارت میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک کی نجی اور سرکاری کمپنیاں روایتی حدود سے نکل کر نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔

اس تجارتی فروغ میں سب سے بڑا حصہ ری ایبکسپورٹ (Re-exports) اور مشینری کا ہے۔ گابون اپنی کان کنی اور تعمیراتی صنعتوں کے لیے درکار بھاری مشینری اور الیکٹرانکس کا ایک بڑا حصہ اب متحدہ عرب امارات کے ذریعے درآمد کر رہا ہے۔ دوسری جانب، یو اے ای گابون سے لکڑی، مینگنیز اور دیگر خام مال درآمد کر رہا ہے جو اس کی صنعتی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

شعبہ تجارت کی نوعیت کلیدی مصنوعات متوقع نمو (اگلے 5 سال)
کان کنی درآمدات (گابون سے یو اے ای) مینگنیز، سونا، خام دھاتیں اعلیٰ
لاجسٹکس خدمات بندرگاہوں کا انتظام، کارگو ہینڈلنگ بہت اعلیٰ
صارفین کی اشیاء برآمدات (یو اے ای سے گابون) الیکٹرانکس، گاڑیاں، غذائی اجناس معتدل
ٹمبر (لکڑی) درآمدات پروسیسڈ لکڑی، فرنیچر کا خام مال مستحکم

برآمدات اور درآمدات کے توازن میں تبدیلی

ماضی میں تجارتی توازن اکثر یکطرفہ ہوتا تھا، لیکن اب اس میں بہتری آ رہی ہے۔ یو اے ای کی جانب سے گابون کو برآمد کی جانے والی اشیاء میں پیٹروکیمیکلز کے علاوہ تعمیراتی سامان، ادویات اور غذائی اشیاء شامل ہیں۔ گابون کی بڑھتی ہوئی مڈل کلاس اور شہری آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دبئی ایک اہم سپلائی چین مرکز بن چکا ہے۔ دوسری جانب، گابون نے اپنی زرعی مصنوعات اور ٹمبر کی پروسیسنگ کو بہتر بنا کر یو اے ای کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ یہ توازن دونوں معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جامع اقتصادی شراکت داری اور نئے معاہدوں کی اہمیت

یو اے ای اور گابون کے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مختلف مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور اقتصادی شراکت داری کے ممکنہ معاہدوں پر دستخط ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے کئی افریقی ممالک کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (CEPA) کیے ہیں، اور گابون کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد کسٹم ڈیوٹی میں کمی، تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

ان معاہدوں کے تحت، دونوں ممالک نے ڈبل ٹیکسیشن (Double Taxation) سے بچنے اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدوں پر بھی بات چیت کی ہے۔ یہ قانونی ڈھانچہ سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے کہ ان کا سرمایہ محفوظ ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ویزا پالیسیوں میں نرمی اور کاروباری وفود کے لیے خصوصی سہولیات بھی ان معاہدوں کا حصہ ہیں۔

سرمایہ کاری کے کلیدی شعبے: کان کنی اور لاجسٹکس

گابون قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، خاص طور پر مینگنیز کے ذخائر میں یہ دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یو اے ای کی بڑی کان کنی اور سرمایہ کاری کمپنیاں گابون کے کان کنی کے شعبے میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ مقصد صرف خام مال نکالنا نہیں ہے بلکہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے وہیں پر پروسیسنگ پلانٹس لگانا ہے، تاکہ گابون کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے اور برآمدی لاگت کم ہو سکے۔

اس کے علاوہ، زراعت ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں یو اے ای سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی غذائی تحفظ (Food Security) کی پالیسی کے تحت افریقہ میں زرعی زمینوں اور فوڈ پروسیسنگ یونٹس میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، اور گابون کی زرخیز زمین اس مقصد کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ پام آئل اور ربڑ کی صنعت میں بھی مشترکہ منصوبوں کے امکانات روشن ہیں۔

گابون بطور وسطی افریقہ کا تجارتی دروازہ

یو اے ای کے لیے گابون کی اہمیت صرف اس کی اپنی مارکیٹ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ وسطی افریقہ کی بڑی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم دروازہ ہے۔ گابون کا جغرافیائی محل وقوع اسے وسطی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ECCAS) کا ایک اہم رکن بناتا ہے۔ یو اے ای کے تاجر گابون میں اپنے لاجسٹکس ہب قائم کر کے کیمرون، کانگو اور استوائی گنی جیسی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ حکمت عملی متحدہ عرب امارات کی ‘سلک روڈ’ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی تجارت کے راستوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ گابون کے ذریعے، یو اے ای اپنی مصنوعات کو براعظم کے اندرونی حصوں تک پہنچانے کے لیے سڑک اور ریل کے نیٹ ورک کو استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔

ڈیجیٹل اکانومی اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں پیشرفت

اکیسویں صدی کی معیشت کا انحصار ڈیجیٹلائزیشن پر ہے۔ یو اے ای، جو کہ ٹیکنالوجی اور اسمارٹ گورننس میں ایک عالمی لیڈر ہے، گابون کے ساتھ اپنے ڈیجیٹل تجربات کا اشتراک کر رہا ہے۔ اس تعاون میں ای گورننس، فن ٹیک (FinTech) اور ٹیلی کمیونیکیشن کا انفراسٹرکچر شامل ہے۔ گابون کی حکومت اپنی معیشت کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں دبئی کے ماڈل کو اپنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپس اور انوویشن کے شعبے میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے۔ نوجوانوں کو تربیت دینے اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے کے لیے یو اے ای کے تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں گابون میں ورکشاپس اور تربیتی مراکز کے قیام پر غور کر رہی ہیں۔

بندرگاہوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں یو اے ای کا کردار

کسی بھی تجارتی تعلق کی کامیابی کا انحصار مضبوط انفراسٹرکچر پر ہوتا ہے۔ یو اے ای کی معروف لاجسٹکس کمپنی ‘ڈی پی ورلڈ’ (DP World) اور دیگر ادارے افریقہ بھر میں بندرگاہوں کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہیں۔ گابون میں بھی بندرگاہوں کی توسیع اور جدید کاری میں یو اے ای کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ لبرویل (Libreville) اور پورٹ جینٹل (Port-Gentil) کی بندرگاہوں کی صلاحیت بڑھانے سے نہ صرف گابون کی برآمدات میں تیزی آئے گی بلکہ درآمدی لاگت میں بھی کمی واقع ہوگی۔

مزید برآں، گابون میں اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کے قیام میں بھی یو اے ای کا ماڈل رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ ‘نکوک اسپیشل اکنامک زون’ (Nkok SEZ) جیسی مثالیں موجود ہیں جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی چھوٹ اور دیگر مراعات دی گئی ہیں، اور یو اے ای کے سرمایہ کار ان زونز میں اپنی فیکٹریاں لگانے میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور دوطرفہ توقعات

مستقبل قریب میں، یو اے ای اور گابون کے تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ گابون، جو کہ اپنے وسیع بارانی جنگلات کی وجہ سے دنیا کا ‘کاربن سنک’ سمجھا جاتا ہے، یو اے ای کے ساتھ مل کر گرین انرجی اور کاربن کریڈٹس کے منصوبوں پر کام کر سکتا ہے۔

اختتامی طور پر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یو اے ای اور گابون کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات جنوبی نصف کرہ (Global South) میں تعاون کی ایک بہترین مثال ہیں۔ یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی لائے گی بلکہ خطے میں معاشی استحکام کا باعث بھی بنے گی۔ تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ اور نئے شعبوں میں تعاون اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ تعلقات ایک تزویراتی اتحاد (Strategic Alliance) کی شکل اختیار کر لیں گے۔

مزید تفصیلات کے لیے آپ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں جہاں بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار دستیاب ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *