مریم نواز راشن کارڈ: پنجاب میں مزدوروں کیلئے 10 ہزار روپے امداد اور رجسٹریشن کا نیا نظام

مریم نواز راشن کارڈ اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کیا گیا 10 ہزار روپے کا ریلیف پروگرام موجودہ حکومتِ پنجاب کا ایک انقلابی اقدام ہے جس کا مقصد مہنگائی کے اس دور میں نچلے طبقے کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالنے کے بعد مریم نواز شریف نے اپنی پہلی ہی تقریر میں اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح غریب اور دیہاڑی دار طبقہ ہوگا۔ اسی وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پنجاب حکومت نے نہ صرف رمضان المبارک کے دوران بلکہ اس کے بعد بھی مستحق خاندانوں کی کفالت کیلئے ایک جامع روڈ میپ ترتیب دیا ہے۔ یہ پروگرام صرف راشن کی تقسیم تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں نقد رقوم کی منتقلی اور سوشل سیکیورٹی کے نیٹ ورک کو وسیع کرنا بھی شامل ہے۔

مریم نواز راشن کارڈ اور حکومتی وژن

حکومت پنجاب کا بنیادی وژن یہ ہے کہ ریاست ماں جیسی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے۔ مریم نواز راشن کارڈ دراصل ایک ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک نظام ہے جس کے ذریعے حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سبسڈی اور امداد صرف ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔ ماضی میں راشن کی تقسیم کے دوران لمبی قطاریں اور بدنظمی ایک معمول بن چکا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے ’نگہبان پروگرام‘ اور راشن کارڈ اسکیم کے ذریعے عزت نفس کو مجروح کیے بغیر مستحقین کی دہلیز تک امداد پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اس وژن کے تحت صوبے کے کروڑوں عوام کا ڈیٹا نادرا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اشتراک سے مرتب کیا گیا ہے تاکہ ڈپلیکیشن اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مزدوروں کیلئے 10 ہزار روپے کی مالی امداد کی تفصیلات

پنجاب حکومت نے خاص طور پر لیبر طبقے اور رجسٹرڈ مزدوروں کیلئے 10 ہزار روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا ہے جو کہ بتدریج ادا کی جا رہی ہے۔ یہ امداد ان مزدوروں کیلئے ہے جو سوشل سیکیورٹی یا محکمہ محنت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں لیکن معاشی حالات کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس اسکیم کے تحت حکومت کا مقصد یہ ہے کہ دیہاڑی دار طبقہ، جو مہنگائی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اسے براہ راست مالی معاونت فراہم کی جائے۔

اس 10 ہزار روپے کی امداد کا دائرہ کار وسیع کرنے کیلئے لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے فیکٹری ورکرز، بھٹہ مزدوروں اور گھریلو ملازمین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت ہے کہ اس رقم کی منتقلی کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور اس میں کسی بھی قسم کی کٹوتی یا ایجنٹ مافیا کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ رقم بینک آف پنجاب اور دیگر مائیکرو فنانس اداروں کے اشتراک سے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد جاری کی جا رہی ہے۔

پنجاب نگہبان ریلیف پیکیج اور راشن کی تقسیم

نگہبان ریلیف پیکیج مریم نواز حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس نے راشن کی تقسیم کے روایتی طریقوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس پیکیج کے تحت 64 لاکھ سے زائد خاندانوں کو گھر کی دہلیز پر خشک راشن فراہم کیا گیا، جس میں آٹا، چینی، گھی، دالیں اور چاول شامل تھے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مستحقین کو ٹرکوں کے پیچھے بھاگنے یا گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔

ضلعی انتظامیہ اور لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں نے گھر گھر جا کر تصدیق کی اور راشن ہینڈ اوور کیا۔ اس عمل کی نگرانی کیلئے باقاعدہ ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کی گئی تھی جس میں راشن وصول کرنے والے کی تصویر اور لوکیشن ٹیگ کی جاتی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امداد صحیح ہاتھوں میں پہنچی ہے۔

خصوصیت مریم نواز راشن کارڈ / نگہبان اسکیم سابقہ اسکیمیں (روایتی طریقہ)
رجسٹریشن کا طریقہ ڈیجیٹل سروے اور آٹو رجسٹریشن (BISP ڈیٹا) دستی درخواستیں اور لمبی قطاریں
تقسیم کا طریقہ گھر کی دہلیز پر فراہمی (Doorstep Delivery) ٹرک پوائنٹس اور ہجوم
مالی امداد راشن + 10,000 تک نقد (مخصوص حالات میں) صرف محدود راشن یا معمولی سبسڈی
شفافیت کیو آر کوڈ اور لائیو ڈیش بورڈ مانیٹرنگ دستی ریکارڈ اور کرپشن کے امکانات
ٹارگٹڈ گروپ بی آئی ایس پی (PMT سکور 32 سے کم) عمومی تقسیم

راشن کارڈ اور امدادی رقم کیلئے اہلیت کا معیار

عوام کی بڑی تعداد اکثر اہلیت کے معیار کے حوالے سے ابہام کا شکار رہتی ہے۔ مریم نواز راشن کارڈ اور 10 ہزار روپے کی ریلیف اسکیم کیلئے حکومت نے سخت لیکن شفاف معیار مقرر کیا ہے۔ بنیادی طور پر وہ خاندان اس اسکیم کیلئے اہل قرار دیے گئے ہیں جن کا پاورٹی سکور (PMT Score) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا بیس میں 32 یا اس سے کم ہے۔

اس کے علاوہ، جن افراد کی ماہانہ آمدنی 60 ہزار روپے سے کم ہے اور وہ کسی سرکاری ملازمت پر فائز نہیں ہیں، وہ بھی اس ریلیف کے حقدار سمجھے جاتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں ڈیٹابیس کو اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ وہ خاندان جو حالیہ مہنگائی کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، انہیں بھی اس نیٹ ورک میں شامل کیا جا سکے۔ بیوہ خواتین، یتیم اور معذور افراد کو اس اسکیم میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔

8171 ویب پورٹل اور رجسٹریشن کا طریقہ کار

اگرچہ حکومت نے زیادہ تر ڈیٹا نادرا اور بی آئی ایس پی سے حاصل کیا ہے، لیکن عوام کی سہولت کیلئے 8171 ویب پورٹل اور ایس ایم ایس سروس کو بھی فعال رکھا گیا ہے۔ جو لوگ اپنی اہلیت چیک کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر بھیج کر تصدیق کر سکتے ہیں۔

نئے رجسٹریشن کے عمل میں ڈیجیٹلائزیشن کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت پنجاب نے ایک خصوصی پورٹل متعارف کرایا ہے جہاں شہری اپنی شکایات بھی درج کروا سکتے ہیں۔ اگر کسی مستحق خاندان کا نام لسٹ میں شامل نہیں ہے، تو وہ اپنی قریبی تحصیل آفس یا خدمت مرکز میں جا کر کوائف کی درستی کروا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کو سادہ ترین رکھا جائے تاکہ ان پڑھ افراد بھی آسانی سے استفادہ کر سکیں۔

سابقہ اور موجودہ حکومت کی اسکیموں کا تقابلی جائزہ

سیاسی اور انتظامی سطح پر مریم نواز کی اسکیموں کا موازنہ اکثر سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے دور کے ’احساس راشن رعایت پروگرام‘ سے کیا جاتا ہے۔ پرویز الٰہی دور میں کریانہ اسٹورز کے ذریعے سبسڈی دینے کا ماڈل اپنایا گیا تھا، جس میں دکانداروں کی مرضی اور سسٹم کی خرابیاں اکثر شکایات کا باعث بنتی تھیں۔

اس کے برعکس، موجودہ حکومت نے ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ اور ’ڈور سٹیپ ڈیلیوری‘ کا ماڈل اپنایا ہے۔ مریم نواز کا موقف ہے کہ سبسڈی دینے کیلئے تھرڈ پارٹی (دکاندار) پر انحصار کرنے کے بجائے حکومت کو براہ راست شہری کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف کمیشن مافیا کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ اشیاء کے معیار کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ نگہبان پروگرام میں کوالٹی کنٹرول کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جنہوں نے پیکنگ سے لے کر تقسیم تک ہر مرحلے کی نگرانی کی۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ اور سوشل ویلفیئر کا کردار

پنجاب کی وزارت محنت اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اس پورے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیر محنت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ 10 ہزار روپے کی گرانٹ اور راشن کارڈ کے فوائد کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کیلئے ’پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی‘ کو مزید بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ نے انڈسٹریل ایریاز میں کیمپ لگا کر مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’مزدور کارڈ‘ کو بھی راشن کارڈ کے ساتھ لنک کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ مزدوروں کو صحت، تعلیم اور راشن کی سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم سے مل سکیں۔ یہ انضمام انتظامی اخراجات کو کم کرنے اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ڈیجیٹل اقدامات

کرپشن اور اقربا پروری پاکستان میں فلاحی منصوبوں کی ناکامی کی بڑی وجہ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کی خدمات حاصل کی ہیں۔ راشن کی تقسیم اور مالی امداد کی ٹریکنگ کیلئے ریئل ٹائم ڈیش بورڈز بنائے گئے ہیں جو براہ راست وزیراعلیٰ ہاؤس میں مانیٹر ہوتے ہیں۔

ہر راشن بیگ پر ایک QR کوڈ موجود ہوتا ہے جسے سکین کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ بیگ کس گودام سے نکلا اور کس خاندان کو ملا۔ اسی طرح 10 ہزار روپے کی ادائیگی کے وقت بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی سرکاری اہلکار اس عمل میں کوتاہی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

مستقبل کے لائحہ عمل اور مزید فلاحی منصوبے

مریم نواز راشن کارڈ صرف ایک ہنگامی اقدام نہیں بلکہ یہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت پنجاب مستقبل قریب میں ’ہمت کارڈ‘ برائے معذور افراد اور ’کسان کارڈ‘ برائے کاشتکار بھی مکمل طور پر فعال کر رہی ہے۔ ان تمام کارڈز کو ایک سنٹرلائزڈ ڈیٹا بیس کے تحت لایا جائے گا تاکہ ریاست کے وسائل کا بہترین استعمال ہو سکے۔

حکومت کا ارادہ ہے کہ راشن کارڈ کے ذریعے صرف آٹا اور دالیں ہی نہیں، بلکہ بچوں کیلئے دودھ اور بنیادی ادویات پر بھی سبسڈی فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ، مستحق خاندانوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف دینے کیلئے بھی اسی ڈیٹا کو استعمال کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب حکومت اس ماڈل کو کامیابی سے چلاتی رہی تو یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور شفاف ترین سوشل سیفٹی نیٹ بن سکتا ہے۔

مزید برآں، یہ اقدامات مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ جب حکومت براہ راست غریب طبقے کی جیب میں پیسہ یا راشن ڈالتی ہے، تو اس سے ان کی قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ 8171 اور متعلقہ سرکاری ویب سائٹس سے جڑے رہیں تاکہ وہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کسی بھی نئی سہولت سے بروقت فائدہ اٹھا سکیں۔

مزید معلومات اور سرکاری اعلانات کے لیے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *