ایرانی دفاعی پیداوار: محمد حسین باقری کا اسٹریٹجک میزائل صلاحیت پر بیان

ایرانی دفاعی پیداوار آج کے دور میں مشرق وسطیٰ کی سب سے اہم اور زیر بحث حکمت عملی بن چکی ہے۔ عالمی پابندیوں اور کڑی نگرانی کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی عسکری طاقت اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو ایک غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا ہے۔ اس ترقی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ملک نے بیرونی ممالک پر اپنا انحصار بتدریج ختم کر دیا ہے اور مقامی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ایک طاقتور اور خود کفیل ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس قائم کر لیا ہے۔ اس ضمن میں، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد حسین باقری کا کردار اور ان کے بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق، ایران کی دفاعی اسٹریٹجی محض ملکی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اب ایک عالمی ڈیٹرنس (Deterrence) کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ اس مضمون میں ہم ایران کی مقامی دفاعی صنعت، اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام، اور جنرل باقری کے حالیہ اسٹریٹجک بیانات کا تفصیلی اور گہرا جائزہ لیں گے۔ عالمی دفاعی خبروں اور تجزیوں کے تناظر میں یہ پیشرفت بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ایرانی دفاعی پیداوار کی موجودہ صورتحال اور اہمیت

ایران کی مقامی دفاعی صنعت کی بنیاد انیس سو اسّی کی دہائی میں مسلط کردہ ایران عراق جنگ کے دوران رکھی گئی تھی۔ اس وقت جب عالمی برادری نے ایران پر ہتھیاروں کی فروخت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ایرانی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ ملکی سلامتی اور بقا کا واحد راستہ اپنی دفاعی ضروریات کو خود پورا کرنا ہے۔ آج کئی دہائیوں کے بعد، وہ ابتدائی کوششیں ایک وسیع اور پیچیدہ فوجی صنعتی ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، ایران نہ صرف چھوٹے ہتھیار اور گولہ بارود تیار کر رہا ہے، بلکہ وہ جدید ترین بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ہائپرسانک ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیار، اور پیچیدہ فضائی دفاعی نظام بھی خود بنا رہا ہے۔ دفاعی پیداوار کے اس وسیع نیٹ ورک میں سرکاری دفاعی اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی جامعات، تحقیقی مراکز، اور نجی شعبے کی کمپنیاں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس مشترکہ کاوش کی بدولت ایران اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار کر سکتا ہے، جو اسے علاقائی حریفوں اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں ایک نمایاں برتری فراہم کرتا ہے۔

محمد حسین باقری کا حالیہ بیان اور اس کے دور رس اثرات

جنرل محمد حسین باقری، جو ایرانی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ہیں، کے بیانات عموماً ایران کی فوجی پالیسی اور اسٹریٹجک اہداف کی عکاسی کرتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیانات میں، انہوں نے انتہائی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت اور اس کے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی اور عسکری پابندیوں نے دراصل ایران کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اپنی اندرونی صلاحیتوں کو پہچانے اور انہیں نکھارے۔ ان کے مطابق، آج ایران اپنے دشمنوں کی کسی بھی جارحیت کا فوری، تباہ کن اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ باقری کے اس بیان کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف اندرون ملک عوام اور فوجی جوانوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ ایران کو فوجی طاقت کے زور پر دبایا یا جھکایا نہیں جا سکتا۔ اس طرح کی سخت بیان بازی مشرق وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کے خدوخال کو مسلسل تبدیل کر رہی ہے۔

بیلسٹک میزائل پروگرام اور ایران کی اسٹریٹجک فوجی طاقت

ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا اور متنوع میزائل پروگرام تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر ایران کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس پروگرام کے تحت تیار کیے گئے میزائلوں کی رینج چند سو کلومیٹر سے لے کر دو ہزار کلومیٹر سے زائد تک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل مکمل طور پر ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ شہاب، سجیل، خرمشہر اور عماد سیریز کے میزائل ایرانی ہنر مندی اور انجینئرنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ خرمشہر 4 جیسے میزائل، جنہیں حال ہی میں متعارف کرایا گیا ہے، انتہائی جدید نیویگیشن اور گائیڈنس سسٹم سے لیس ہیں جو ان کی ہدف کو نشانہ بنانے کی درستی کو یقینی بناتے ہیں۔ ان میزائلوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ جدید ترین دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو بھی بآسانی چکمہ دے سکتے ہیں۔ ان کی ساخت میں استعمال ہونے والا مواد اور ان کی رفتار انہیں ریڈار پر نمودار ہونے سے روکتی ہے یا کم از کم ان کا سراغ لگانے کے وقت کو اس قدر کم کر دیتی ہے کہ دفاعی نظام کو ردعمل کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔

مقامی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی جانب طویل اور کٹھن سفر

ایک وقت تھا جب ایران اپنے فوجی ساز و سامان کے لیے مکمل طور پر امریکہ اور مغربی ممالک کا محتاج تھا۔ شاہ ایران کے دور میں خریدا گیا اسلحہ انقلاب کے بعد سپیئر پارٹس اور مینٹیننس کی کمی کے باعث ناکارہ ہونے لگا تھا۔ اس نازک صورتحال میں ریورس انجینئرنگ (Reverse Engineering) کی تکنیک اپنائی گئی۔ شروع میں غیر ملکی ساختہ میزائلوں کے پرزوں کی نقل تیار کی گئی، لیکن بتدریج ایرانی سائنسدانوں نے اپنی ٹیکنالوجی وضع کرنا شروع کی۔ یہ سفر انتہائی کٹھن تھا۔ پرزہ جات پر عالمی پابندیاں، فنڈز کی کمی، اور سائنسی معلومات تک محدود رسائی جیسے مسائل درپیش تھے۔ تاہم، ایرانی حکومت کی جانب سے دفاعی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ (R&D) میں کی جانے والی مستقل اور بھاری سرمایہ کاری نے آخر کار رنگ دکھایا۔ آج ایران نہ صرف ہتھیار بناتا ہے بلکہ ان کے سافٹ ویئر، الیکٹرانکس، اور مواصلاتی نظام بھی مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے آپ ایران کی فوجی اسٹریٹجی کی تفصیلات کا مطالعہ کر سکتے ہیں، جو اس خود انحصاری کے سفر کو مزید واضح کرتا ہے۔

ایرانی ڈرون پروگرام: عالمی اور علاقائی سطح پر ایک نیا چیلنج

حالیہ برسوں میں جس ایرانی فوجی پیشرفت نے سب سے زیادہ عالمی توجہ حاصل کی ہے، وہ اس کا ڈرون یا یو اے وی (UAV) پروگرام ہے۔ ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شاہد 136، جسے عام طور پر کامیکازی (Kamikaze) یا خودکش ڈرون کہا جاتا ہے، اور مہاجر 6 جیسے ڈرونز اب جدید جنگوں کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ یہ ڈرونز نسبتاً کم قیمت ہونے کے باوجود انتہائی مہلک اور موثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی لمبی رینج اور ہدف پر درستگی کے ساتھ حملہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ مزید برآں، یہ ڈرونز جھرمٹ (Swarm) کی صورت میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو دنیا کے بہترین فضائی دفاعی نظاموں کو بھی الجھانے اور ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔ یوکرین کی جنگ میں مبینہ طور پر ایرانی ڈرونز کے استعمال نے مغربی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی عالمی سطح پر طاقت کا توازن بگاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فتاح میزائل اور ہائپرسانک ٹیکنالوجی کی شاندار کامیابیاں

ایران کی فوجی ترقی کا ایک اور اہم ترین سنگ میل فتاح ہائپرسانک میزائل کی نقاب کشائی ہے۔ ہائپرسانک ٹیکنالوجی دنیا کے چند گنے چنے ممالک کے پاس ہے، اور ایران کا اس فہرست میں شامل ہونا ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔ فتاح میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم پندرہ گنا زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی غیر معمولی رفتار اور فضا کے اندر پیچیدہ زاویوں میں مڑنے کی صلاحیت (Maneuverability) اسے دشمن کے ہر موجودہ اور متوقع اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے لیے ناقابل تسخیر بنا دیتی ہے۔ اس میزائل کی رینج چودہ سو کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ ایک جدید ترین سالڈ فیول انجن پر مشتمل ہے جس میں موو ایبل نوزل لگی ہوئی ہے۔ یہ میزائل چند ہی منٹوں میں اپنے ہدف کو تباہ کر سکتا ہے۔ فتاح میزائل کی شمولیت نے ایرانی اسٹریٹجک ڈیٹرنس کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ اس کی رفتار کی وجہ سے حملے سے قبل وارننگ کا وقت تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

ہتھیار / نظام کا نام ہتھیار کی قسم تخمینی رینج اہم ترین اسٹریٹجک خصوصیت
فتاح (Fattah) ہائپرسانک بیلسٹک میزائل 1400 کلومیٹر انتہائی تیز رفتار اور دفاعی شکن صلاحیت
شاہد 136 (Shahed-136) کامیکازی / لوئٹرنگ میونیشن 2500 کلومیٹر کم لاگت، ریڈار سے بچاؤ، غول کی شکل میں حملہ
خرمشہر 4 (Khorramshahr-4) میڈیم رینج بیلسٹک میزائل 2000 کلومیٹر باری وارہیڈ اور جدید گائیڈنس سسٹم
باور 373 (Bavar-373) جدید فضائی دفاعی نظام 300 کلومیٹر سے زائد بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک اور تباہ کرنا

اینٹی شپ میزائل اور بحری بیڑے کے تصادم کی جدید حکمت عملی

خلیج فارس، آبنائے ہرمز، اور بحیرہ عمان کی جیو اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر ایران نے اپنی بحری اور ساحلی دفاعی حکمت عملی کو انتہائی مضبوط بنایا ہے۔ ایران کا اینٹی شپ میزائل پروگرام اس حکمت عملی کا مرکز ہے۔ قادر، نور، اور خلیج فارس جیسے میزائل سمندری اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کی رینج اور تباہ کن طاقت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خطے میں موجود کسی بھی دشمن کے جنگی جہاز یا طیارہ بردار بحری بیڑے (Aircraft Carriers) محفوظ نہیں ہیں۔ ایران کی بحری جنگ کی حکمت عملی روایتی جنگ کے بجائے غیر متناسب یا ایسیمیٹرک (Asymmetric Warfare) پر مبنی ہے۔ اس میں تیز رفتار حملہ آور کشتیاں، چھوٹی آبدوزیں، بارودی سرنگیں، اور ساحل سے فائر کیے جانے والے اینٹی شپ میزائل شامل ہیں۔ یہ مشترکہ نظام دشمن کے بڑے اور جدید ترین بحری بیڑوں کو تنگ سمندری راستوں میں الجھانے اور انہیں شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میزائل انٹرسیپٹرز حکمت عملی اور ایران کا ناقابل تسخیر فضائی دفاع

ایک مضبوط جارحانہ صلاحیت کے ساتھ ساتھ، ایران نے اپنے ملک کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے بھی ایک جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔ ایران کو بخوبی علم ہے کہ کسی بھی تنازعے کی صورت میں اس کی تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے باور 373، خرداد 15، اور مرصاد جیسے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نصب کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر باور 373 کو روس کے مشہور ایس-300 اور بعض حوالوں سے ایس-400 نظام کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نظام بیک وقت درجنوں اہداف کا سراغ لگانے اور مختلف سمتوں سے آنے والے لڑاکا طیاروں، کروز میزائلوں، اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی ریڈار نیٹ ورکس کو پورے ملک میں بچھایا گیا ہے جو کسی بھی دراندازی کی پیشگی اطلاع دینے اور فوری انٹرسیپشن کے قابل ہیں۔

ایران کی مقامی دفاعی صلاحیتوں پر بین الاقوامی اور عالمی ردعمل

ایران کی عسکری صلاحیتوں میں تیزی سے ہونے والا یہ اضافہ عالمی برادری بالخصوص امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ ان ممالک کا دعویٰ ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ایران کا اصرار ہے کہ اس کا فوجی پروگرام خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں، جب تک کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں عالمی دفاعی تھنک ٹینکس مسلسل ایرانی پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) جیسی بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے ایران کے دفاعی بجٹ اور مقامی ہتھیاروں کی تیاری کی رپورٹس شائع کرتے رہتے ہیں جن میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پابندیوں نے ایران کی دفاعی صنعت کو کمزور کرنے کے بجائے مزید خود مختار بنا دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں طاقت کا بدلتا ہوا توازن اور اسٹریٹجک تبدیلیاں

اس اعلیٰ سطحی اور مقامی طور پر تیار کی گئی فوجی طاقت نے مشرق وسطیٰ کے روایتی طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ایران اب اپنے مقامی اتحادیوں اور خطے کی مزاحمتی تنظیموں کو بھی یہ ٹیکنالوجی اور ساز و سامان فراہم کرنے کے قابل ہے، جس سے اس کا علاقائی اثر و رسوخ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ یمن، لبنان، شام، اور عراق میں ایرانی ٹیکنالوجی اور میزائلوں کی موجودگی نے پورے خطے کو ایک ایسی اسٹریٹجک پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں کوئی بھی روایتی جنگ فوری طور پر ایک وسیع اور تباہ کن علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ جنرل محمد حسین باقری کے بیانات میں اسی توازن کا ذکر کیا جاتا ہے کہ کس طرح اب خطے میں کوئی بھی بڑی فوجی مہم جوئی ایران کو نظر انداز کر کے یا اسے دباؤ میں لا کر ممکن نہیں ہے۔ اس موضوع پر مزید تجزیات ہمارے اسٹریٹجک امور کے صفحات پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں جہاں مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مستقبل کے عزائم اور اسٹریٹجک اہداف کی تکمیل کا راستہ

ایران کی دفاعی پیداوار کا سفر یہاں رکنے والا نہیں ہے۔ مستقبل کی حکمت عملیوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، سائبر وارفیئر (Cyber Warfare)، اور خلائی ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال سب سے اہم اہداف ہیں۔ ایران کی جانب سے مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنے کے کامیاب تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBM) کی ٹیکنالوجی کے بھی انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت بشمول جنرل محمد حسین باقری، اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک جنگی آلات سے لڑی جائیں گی۔ اس لیے مقامی دفاعی پیداوار کو اب جدید سائنس کے ان شعبوں کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ نتیجہ خیز طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلسل عزم اور ٹھوس ریاستی پالیسیوں کے ذریعے شدید ترین معاشی اور سفارتی دباؤ کو بھی اپنی طاقت اور قومی خود مختاری کی علامت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *