سندھ میں پہلا پولیو کیس 2026: محکمہ صحت کا ہنگامی الرٹ

سندھ میں پہلا پولیو کیس 2026 سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت کے حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی جب امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان پولیو فری اسٹیٹس کے قریب پہنچ جائے گا، سندھ کے ایک حساس ضلع سے رپورٹ ہونے والے اس کیس نے انسداد پولیو پروگرام کی کوششوں کو ایک بار پھر سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے متاثرہ علاقے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا اشارہ دیا ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف والدین کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ انتظامیہ کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وائرس کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

محکمہ صحت سندھ کا ہنگامی الرٹ اور ابتدائی تفصیلات

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں سال 2026 کا پہلا انسانی پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ بچے کا تعلق سندھ کے شمالی ضلع سے بتایا جا رہا ہے جہاں ماضی میں بھی ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی۔ اس افسوسناک خبر کے بعد صوبائی وزیر صحت نے فوری طور پر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے تاکہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔ الرٹ میں تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں نگرانی کا نظام سخت کریں اور کسی بھی مشکوک کیس کی فوری رپورٹنگ کو یقینی بنائیں۔

اس الرٹ کا مقصد نہ صرف انتظامی مشینری کو متحرک کرنا ہے بلکہ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ہے کہ پولیو وائرس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ محکمہ صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں، خاص طور پر وہ بچے جو سفر کر رہے ہیں یا ہائی رسک علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ غفلت کی کوئی گنجائش نہیں اور جو افسران اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی برتیں گے ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 (WPV1) کی تصدیق اور جینیاتی تجزیہ

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد کی لیبارٹری سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق متاثرہ بچے میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 (WPV1) کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی وائرس ہے جو پاکستان اور افغانستان میں اب بھی گردش کر رہا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک سے ختم ہو چکا ہے۔ جینیاتی تجزیے (Genetic Sequencing) سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وائرس کا تعلق مقامی کلسٹر سے ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وائرس خاموشی سے کمیونٹی میں گردش کر رہا تھا۔

وائلڈ پولیو وائرس کا یہ حملہ بچوں کے اعصابی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق جس علاقے سے یہ کیس سامنے آیا ہے، وہاں کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی وائرس کی موجودگی مسلسل رپورٹ ہو رہی تھی۔ وائرس کی یہ قسم انتہائی خطرناک ہے اور تیزی سے ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل ہوتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صفائی کا نظام ناقص ہو اور پینے کا پانی آلودہ ہو۔

2026 میں وائرس کے دوبارہ ابھرنے اور پھیلاؤ کے اسباب

سال 2026 میں پولیو وائرس کے دوبارہ سر اٹھانے کے پیچھے کئی اہم محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے بڑی وجہ معمول کی حفاظتی ٹیکوں (Routine Immunization) کے نظام میں موجود کمزوریاں ہیں۔ بہت سے والدین پولیو مہم کے دوران تو اپنے بچوں کو قطرے پلوا دیتے ہیں لیکن معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہیں کرواتے، جس کی وجہ سے بچوں میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت کمزور رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل و مکانی بھی وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا سبب ہے، کیونکہ جب وائرس زدہ علاقوں سے لوگ دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں تو وہ وائرس کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اور سیوریج کا نظام

پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں ماحولیاتی آلودگی اور ناقص سیوریج سسٹم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ سندھ کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی اور حیدرآباد کے کئی علاقوں میں سیوریج کا پانی گلیوں میں کھڑا رہتا ہے، جو وائرس کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، سندھ کے مختلف اضلاع سے لیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ ماحولیاتی نمونے اس بات کی علامت ہیں کہ وائرس انسانی جسم کے باہر بھی زندہ ہے اور کسی بھی وقت کمزور قوت مدافعت والے بچے کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔ محکمہ صحت نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔

انسداد پولیو مہم 2026 کا نیا لائحہ عمل اور اہداف

سندھ میں پہلے پولیو کیس کے بعد انسداد پولیو پروگرام نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ 2026 کی نئی مہمات میں ‘فوکسڈ ایریا اپروچ’ (Focused Area Approach) اپنائی جائے گی، جس کے تحت ان یونین کونسلز پر زیادہ توجہ دی جائے گی جہاں وائرس کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ نئی حکمت عملی کے تحت، ویکسینیشن ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ان کی تربیت کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ وہ ہر گھر تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ، ٹرانزٹ پوائنٹس (Transit Points) پر بھی خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جو سفر کرنے والے بچوں کو ویکسین پلائیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سال کا ہدف ‘زیرو پولیو’ (Zero Polio) ہے اور اس مقصد کے لیے مائیکرو پلاننگ کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ٹیموں کی کارکردگی کو جانچا جائے گا اور جعلی فنگر مارکنگ (Fake Finger Marking) کے رجحان کو سختی سے روکا جائے گا۔ اس مہم میں علماء کرام، اساتذہ اور کمیونٹی کے بااثر افراد کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ وہ والدین کو قائل کر سکیں اور پولیو مہم کو کامیاب بنائیں۔

انکاری والدین اور غلط فہمیوں کا ازالہ

بدقسمتی سے، سندھ کے کچھ علاقوں میں اب بھی ایسے والدین موجود ہیں جو غلط فہمیوں یا پروپیگنڈے کی وجہ سے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ان ‘انکاری والدین’ (Refusal Parents) کو سمجھانا محکمہ صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر اوقات یہ انکار مذہبی غلط فہمیوں یا ویکسین کے بارے میں بے بنیاد افواہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ صحت نے ایک جامع آگاہی مہم شروع کی ہے جس میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔

سندھ کے ہائی رسک اضلاع اور خصوصی توجہ

سندھ میں پولیو وائرس کا سب سے زیادہ خطرہ کراچی کے کچھ مخصوص اضلاع، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں پایا جاتا ہے۔ کراچی، جو کہ ایک منی پاکستان ہے، یہاں ملک بھر سے لوگ روزگار کے لیے آتے ہیں، جس کی وجہ سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ہائی رسک اضلاع میں پولیو مہمات کے درمیان وقفہ کم رکھا گیا ہے اور یہاں ‘انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین’ (IPV) مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ بچوں کی قوت مدافعت کو فوری طور پر بڑھایا جا سکے۔

سال سندھ میں رپورٹ ہونے والے کیسز ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی شرح ویکسینیشن کوریج کا ہدف
2024 متعدد (اعدادوشمار کے مطابق) تشویشناک 95%
2025 کم سطح پر رپورٹنگ درمیانی سطح 97%
2026 (موجودہ) 1 (پہلا تصدیق شدہ) ہائی الرٹ 100% (ہنگامی ہدف)

پولیو ورکرز کی سیکیورٹی اور فیلڈ میں درپیش چیلنجز

انسداد پولیو مہم کی کامیابی میں سب سے اہم کردار ان فرنٹ لائن ورکرز کا ہے جو سخت موسم اور نامساعد حالات کے باوجود گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلاتے ہیں۔ تاہم، سیکیورٹی خدشات ہمیشہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ ماضی میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ورکرز میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کی مہمات کے دوران پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔ پولیس اور رینجرز کے دستے ٹیموں کے ساتھ تعینات کیے جائیں گے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی قومی ذمہ داری سرانجام دے سکیں۔

حکومت اور عالمی اداروں کا مشترکہ ایکشن پلان

وفاقی اور صوبائی حکومتیں پولیو کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا ہے کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی اور تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) پاکستان اور یونیسف (UNICEF) کا تعاون بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی ادارے نہ صرف تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں بلکہ فیلڈ میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ 2026 کو پولیو کے خاتمے کا فیصلہ کن سال بنایا جائے گا، لیکن اس کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ جب بھی پولیو ٹیم ان کے دروازے پر آئے، اپنے بچوں کو ویکسین ضرور پلائیں اور پاکستان کو صحت مند بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *