رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس: چاند کی رویت، شرعی و سائنسی تقاضے

رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پاکستان کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی تاریخ میں ایک انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ جب بھی اسلامی تقویم کے نئے مہینے کا آغاز ہوتا ہے، خاص طور پر رمضان المبارک، شوال المکرم اور ذوالحجہ جیسے مقدس مہینوں کی آمد پر، تو پوری قوم کی نظریں اسی اجلاس کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہوتی ہیں۔ یہ اجلاس محض ایک انتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک میں مذہبی عبادات کی بجا آوری، تہواروں کے انعقاد اور قومی یکجہتی کے قیام کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اسلامی شریعت میں قمری کیلنڈر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور چاند کی رویت پر ہی اسلامی مہینوں کا دارومدار ہے۔ اس تفصیلی مقالے میں ہم مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے قیام کی وجوہات، اس کی تاریخ، فیصلہ سازی کے طریقہ کار، سائنسی و شرعی تقاضوں اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت کا نہایت گہرائی سے جائزہ لیں گے۔

رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس: قیام، مقاصد اور اہمیت

پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں کے عوام کی اکثریت مذہب اسلام کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزارتی ہے۔ عبادات، جیسے کہ روزے رکھنا، عید الفطر اور عید الاضحیٰ منانا، نیز حج جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی، سب کا انحصار قمری مہینوں کے آغاز پر ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر ریاست کی سطح پر ایک مستند اور متفقہ ادارے کا قیام ناگزیر تھا جو چاند نظر آنے یا نہ آنے کا شرعی فیصلہ کر سکے۔ یہ ادارہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملک بھر میں بسنے والے مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے لوگ ایک ہی دن اپنی عبادات کا آغاز کریں اور مذہبی تہوار ایک ساتھ منائیں۔ اس کا بنیادی مقصد قومی ہم آہنگی کو فروغ دینا، مذہبی تنازعات سے بچنا اور ایک مستند حکومتی پلیٹ فارم کے ذریعے شرعی شہادتوں کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تاریخ

پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی باقاعدہ بنیاد 1974 میں اس وقت کی قومی اسمبلی کی ایک متفقہ قرارداد کے نتیجے میں رکھی گئی۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے محسوس کیا کہ چاند کی رویت پر ہونے والے اختلافات قومی سطح پر انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تمام مسالک کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اپنے قیام کے ابتدائی سالوں سے لے کر آج تک، اس کمیٹی نے بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ ماضی میں مولانا احتشام الحق تھانوی اور مفتی محمود جیسی قدآور شخصیات اس سے وابستہ رہی ہیں۔ بعد ازاں مفتی منیب الرحمان نے ایک طویل عرصے تک اس کمیٹی کی سربراہی کی اور حال ہی میں مولانا عبدالخبیر آزاد اس کے چیئرمین کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جن کی زیر صدارت کمیٹی کی تشکیل نو کی گئی ہے تاکہ پورے ملک میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

اسلامی مہینہ اجلاس کی اہمیت اور مقاصد متوقع عبادات اور قومی تہوار
رمضان المبارک فرض روزوں کے آغاز کا حتمی تعین کرنا، مساجد میں تراویح کا فیصلہ روزے، نمازِ تراویح، اعتکاف، شب قدر کی تلاش
شوال المکرم رمضان کے اختتام اور صدقہ فطر کی ادائیگی کے وقت کا اعلان عید الفطر کی نماز، خاندانی تقریبات اور صدقہ فطر
ذوالحجہ حج کے ایام، یوم عرفہ اور قربانی کی تاریخ کا ملکی سطح پر تعین عید الاضحیٰ، فریضہ حج، جانوروں کی قربانی
محرم الحرام نئے اسلامی سال کے آغاز اور ایام عزا کا تعین یوم عاشورہ، شہدائے کربلا کی یاد میں مجالس و جلوس

رویت ہلال کمیٹی کا طریقہ کار اور تنظیمی ڈھانچہ

مرکزی کمیٹی کا تنظیمی ڈھانچہ انتہائی جامع اور منظم ہے۔ اس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی شامل ہوتی ہے۔ مرکزی کمیٹی کا اجلاس عموماً ہر قمری مہینے کی 29 تاریخ کو منعقد ہوتا ہے۔ یہ اجلاس باری باری ملک کے مختلف بڑے شہروں جیسے اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں منعقد کیا جاتا ہے تاکہ ہر خطے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ چیئرمین کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ حکام، محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹرز، اور ماہرین فلکیات بھی شریک ہوتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق، ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کو ایک کنٹرول روم میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ہر گواہ کی شرعی حیثیت، اس کی بصارت اور مقام کے جغرافیائی حقائق کو پرکھنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔

چاند کی رویت کے سائنسی اور شرعی تقاضے

اسلامی شریعت میں چاند دیکھنے (رویت بصری) کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو (عید مناؤ)“۔ اسی شرعی اصول کے تحت رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس گواہیوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ تاہم، جدید دور میں علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ سائنس اور فلکیاتی علم کو شرعی گواہیوں کی تصدیق یا تردید کے لیے بطور معاون استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر فلکیاتی حساب سے چاند کی پیدائش ہی نہ ہوئی ہو یا وہ افق پر اس قدر نیچے ہو کہ اسے انسانی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں دی جانے والی گواہیوں کو شرعاً اور عقلاً مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب فیصلے روایتی اور سائنسی علوم کے امتزاج سے کیے جاتے ہیں۔

محکمہ موسمیات اور سپارکو کا کلیدی کردار

چاند کی رویت میں شفافیت اور درستگی لانے کے لیے پاکستان کے قومی اداروں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اجلاس کے دوران محکمہ موسمیات پاکستان اور سپارکو (SUPARCO) کے ماہرین اپنے جدید آلات، چارٹس اور فلکیاتی ڈیٹا کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ محکمہ موسمیات چاند کی عمر، غروب آفتاب کے وقت چاند کی افق سے بلندی (Altitude)، اور سورج سے چاند کے زاویائی فاصلے (Elongation) کا درست ترین حساب پیش کرتا ہے۔ چاند کو انسانی آنکھ سے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم 19 سے 24 گھنٹے ہو، اور یہ غروب آفتاب کے بعد کم از کم 40 منٹ تک افق پر موجود رہے۔ یہ تمام سائنسی حقائق کمیٹی کے سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ جھوٹی یا التباسِ نظر (Optical Illusion) پر مبنی گواہیوں کو روکا جا سکے۔

زونل اور ضلعی کمیٹیوں کی فعالیت اور معاونت

مرکزی کمیٹی کے علاوہ صوبائی دارالحکومتوں میں زونل رویت ہلال کمیٹیاں بھی بیک وقت اپنے اجلاس منعقد کرتی ہیں۔ اسی طرح ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ضلعی خطیب کی نگرانی میں ذیلی کمیٹیاں فعال ہوتی ہیں۔ جب کسی دور دراز علاقے میں کوئی شہری چاند دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، تو وہ فوری طور پر ضلعی کمیٹی سے رابطہ کرتا ہے۔ وہاں کے مقامی علماء اس شخص کی دیانت و امانت کی جانچ پڑتال (تزکیۃ الشہود) کرتے ہیں اور مکمل اطمینان کے بعد زونل کمیٹی کے ذریعے مرکزی کمیٹی تک وہ گواہی پہنچاتے ہیں۔ یہ کثیرالجہتی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی غیر مصدقہ خبر افواہ کی صورت میں نہ پھیلے۔

رویت ہلال اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی ہے، رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا جا رہا ہے۔ محض انسانی آنکھ پر انحصار کرنے کے بجائے، اب جدید تکنیکی آلات کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان نیوی کے تکنیکی ماہرین چاند دیکھنے کے لیے حساس آلات نصب کرتے ہیں تاکہ اگر موسم ابر آلود بھی ہو تو افق پر چاند کی موجودگی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس اقدام نے رویت کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔

جدید آلات اور فلکیاتی ٹیلی سکوپ کی اہمیت

کمیٹی کے اجلاس کے دوران چھتوں اور کھلے میدانوں میں ہائی ریزولیوشن فلکیاتی ٹیلی سکوپس اور تھیوڈولائٹ (Theodolites) لگائے جاتے ہیں۔ یہ آلات سورج اور چاند کے زاویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماہرین دوربین کا رخ اسی مقام کی جانب کر دیتے ہیں جہاں چاند نظر آنے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر دوربین کے ذریعے چاند نظر آ جائے اور علماء کا وفد خود اسے دیکھ لے، تو شرعی رویت ثابت ہو جاتی ہے۔ اس سائنسی معاونت کی وجہ سے ساحلی علاقوں، صحراؤں اور پہاڑی سلسلوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کی فوری تصدیق ممکن ہو سکی ہے۔

رویت ایپ، وزارت سائنس اور عوام کی شمولیت

چند سال قبل پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک سرکاری قمری کیلنڈر جاری کیا اور “رویت” (Ruet) نامی ایک موبائل ایپلیکیشن بھی متعارف کروائی۔ اس ایپ کا مقصد عام شہریوں کو ان کے مقام کے اعتبار سے چاند کی پوزیشن، غروب آفتاب کا وقت اور دیگر فلکیاتی معلومات فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ علماء کی اکثریت اس بات پر زور دیتی ہے کہ محض موبائل ایپ یا کیلنڈر کی بنیاد پر روزہ یا عید کا اعلان شریعت کی رو سے درست نہیں کیونکہ اصل مدار رویت (دیکھنے) پر ہے، لیکن اس ایپ نے عوام میں شعور بیدار کرنے اور سائنسی حقائق کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایپ رویت ہلال کمیٹی کے لیے بھی ایک بہترین معاون ٹول کے طور پر سامنے آئی ہے۔

رویت کے فیصلوں پر پیدا ہونے والے تنازعات اور ان کا حل

پاکستان کی تاریخ میں رویت ہلال ہمیشہ سے ایک حساس اور بسا اوقات متنازع مسئلہ رہا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا رقبہ وسیع ہے، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں سے لے کر سندھ کے ساحلی اور بلوچستان کے صحرائی خطوں تک، ہر جگہ موسم اور افق کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر یہ ہوا کہ ملک کے ایک حصے میں چاند نظر آ گیا اور دوسرے میں نہیں۔ اس اختلاف مطالع (فرقِ افق) اور مختلف فقہی تشریحات کی وجہ سے ماضی میں ملک نے ایک ہی تہوار دو الگ الگ دنوں میں منانے کا کرب بھی سہا ہے۔ عوام اس صورتحال سے شدید کنفیوژن کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

پشاور کی مسجد قاسم علی خان اور ملکی ہم آہنگی

جب بھی تنازعات کا ذکر آتا ہے، تو پشاور کی تاریخی مسجد قاسم علی خان اور وہاں کی مقامی رویت ہلال کمیٹی کا ذکر ناگزیر ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور ان سے قبل کے علمائے کرام ایک طویل عرصے سے اپنے مقامی سطح کے گواہوں کی بنیاد پر چاند کے اعلانات کرتے آئے ہیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ اگر ان کے پاس معتبر اور شرعی گواہیاں آ جائیں تو وہ مرکزی کمیٹی کے اعلان کا انتظار کیے بغیر مقامی سطح پر شرعی فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔ اسی وجہ سے خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں مرکزی کمیٹی سے ایک دن قبل ہی رمضان یا عید کا آغاز ہو جایا کرتا تھا، جس سے قومی سطح پر ایک تقسیم کا تاثر ابھرتا تھا۔

قومی سطح پر ایک ہی دن عید منانے کی کاوشیں

موجودہ چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد اور دیگر حکومتی اکابرین نے اس خلیج کو پاٹنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد کیا گیا اور مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ سمیت تمام ناراض اور مقامی علماء کو اعتماد میں لیا گیا۔ ان کوششوں کا ایک انتہائی مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں ایک ہی دن روزے کا آغاز ہو رہا ہے اور ایک ہی دن عید الفطر اور عید الاضحیٰ منائی جا رہی ہے۔ اس ہم آہنگی نے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا ہے اور ریاستی رٹ کو بھی مضبوط کیا ہے۔ گواہیوں کے اندراج کے طریقہ کار کو شفاف بنا کر ہر علاقے کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں۔

میڈیا کی کوریج اور عوام میں چاند کی رویت کا اشتیاق

چاند رات، بالخصوص رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا دن، پاکستان بھر کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے سب سے بڑی خبر کا درجہ رکھتا ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوتا ہے، تمام نیوز چینلز کی براہ راست نشریات اسی کی کوریج کے لیے مختص ہو جاتی ہیں۔ عوام ٹیلی ویژن سکرینوں، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے پل پل کی خبروں سے باخبر رہتے ہیں۔ بریکنگ نیوز کی پٹی پر مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات، زونل کمیٹیوں کے اجلاسوں کی کارروائی اور محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں پر گرما گرم مباحثے ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے رات گئے کی جانے والی پریس کانفرنس کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ جب چیئرمین کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں کہ ”چاند نظر آ گیا ہے“ تو پورے ملک کے بازاروں، گلیوں اور محلوں میں ایک جشن کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔

مستقبل کے لائحہ عمل اور قانونی تجاویز

رویت ہلال کمیٹی کو مزید بااختیار اور فعال بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی پر کام جاری ہے۔ ”رویت ہلال بل“ کے تحت اس کمیٹی کو ایک قانونی اور آئینی ادارے کی شکل دی جا رہی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد، مرکزی کمیٹی کے متفقہ اعلان کے خلاف کسی بھی قسم کی متوازی کمیٹی کا قیام یا قبل از وقت اعلان کرنا قانوناً جرم قرار دیا جائے گا۔ مزید برآں، کمیٹی کے ممبران کی قابلیت، جدید فلکیاتی علوم میں ان کی تربیت اور ضلعی سطح کے طریقہ کار کو دستاویزی شکل دی جائے گی۔ ان اقدامات سے مستقبل میں رویت ہلال کے نظام میں مزید پختگی اور شفافیت آئے گی اور کسی بھی شرپسند عنصر کو قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کا موقع نہیں ملے گا۔ ایک مضبوط، متحد اور سائنسی و شرعی بنیادوں پر استوار رویت ہلال کمیٹی ہی پاکستان کی مذہبی اور سماجی ضروریات کو بطریق احسن پورا کر سکتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *