عید الفطر 2026 پاکستان بھر میں انتہائی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اسلامی تقویم کے مطابق، یہ دن مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام اور روزوں کی تکمیل کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم انعام کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال عید کی تاریخ کا تعین چاند کی رویت سے مشروط ہوتا ہے، تاہم جدید فلکیاتی علوم اور سائنسی ماہرین کی پیشگوئیوں کی بدولت اب پہلے سے ہی ممکنہ تاریخ کا اندازہ لگانا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ سال 2026 میں رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری کو ہوا تھا، جس کے بعد عوام اور حکومت کی جانب سے عید کی تیاریوں کا سلسلہ زور و شور سے شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین فلکیات اور ملکی تحقیقی اداروں نے شوال کے چاند کی رویت کے حوالے سے اپنے تفصیلی اور تکنیکی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق رواں سال پاکستان میں رمضان کے 30 روزے مکمل ہونے کا انتہائی قوی امکان ہے۔ عوام کی جانب سے بھی اس بابرکت مہینے کی عبادات کے ساتھ ساتھ عید کی آمد کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور ہر طرف ایک روحانی و ثقافتی رونق کا سماں ہے۔
فلکیاتی ماہرین اور سپارکو کی پیشگوئی
پاکستان کے مستند سائنسی ادارے، پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)، اور محکمہ موسمیات کے جاری کردہ تازہ ترین فلکیاتی تجزیے اور رپورٹ کے مطابق، شوال 1447 ہجری کا چاند 19 مارچ 2026 کو پیدا ہوگا۔ ان اداروں کی پیشگوئی کے مطابق چاند کی پیدائش پاکستانی وقت کے مطابق صبح 06 بج کر 23 منٹ پر متوقع ہے۔ ماہرین فلکیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ چاند دیکھنے کے لیے اس کی عمر، زاویہ اور غروب آفتاب کے بعد افق پر اس کے ٹھہرنے کا وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ سپارکو کے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 19 مارچ کی شام کو چاند کی رویت کے امکانات مکمل طور پر معدوم ہیں۔ اس سائنسی بنیاد پر فلکیاتی ماہرین نے یہ حتمی امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں عید الفطر 21 مارچ 2026 بروز ہفتہ کو منائی جائے گی۔ سائنسی ماہرین اور فلکیات دانوں کا ماننا ہے کہ چاند کی رویت کے لیے اس کا مخصوص وقت تک افق پر موجود رہنا اور اس کی روشنی کا ایک خاص حد تک روشن ہونا ناگزیر ہے، جو کہ 19 مارچ کی ماحولیاتی اور فلکیاتی شرائط کے تحت ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
شوال کے چاند کی پیدائش اور عمر
شوال 1447 ہجری کے چاند کی پیدائش کا عمل سائنسی لحاظ سے ایک پیچیدہ لیکن انتہائی منظم مرحلہ ہے۔ محکمہ موسمیات اور سپارکو کی تکنیکی رپورٹس کے مطابق، 19 مارچ 2026 کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر بمشکل 12 گھنٹے اور 41 منٹ ہوگی۔ فلکیاتی اصولوں اور سائنسی روایات کے مطابق، انسانی آنکھ سے چاند کو باآسانی دیکھنے کے لیے اس کی عمر کم از کم 19 سے 20 گھنٹے ہونا ضروری قرار دی گئی ہے۔ مزید برآں، 19 مارچ کی شام کو پاکستان کے ساحلی علاقوں بالخصوص کراچی اور بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی پر غروب آفتاب اور غروب قمر کے درمیان محض 28 منٹ کا قلیل وقفہ ہوگا۔ چاند اتنی کم مدت میں انسانی آنکھ یا حتیٰ کہ عام اور جدید دوربین کی مدد سے بھی افق پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ چاند کی انتہائی کم عمر اور افق پر اس کا مختصر دورانیہ اس بات کی سائنسی تصدیق کرتا ہے کہ 19 مارچ یعنی 29 رمضان المبارک کی شام کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں شوال کا چاند نظر آنے کے کوئی امکانات موجود نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں شریعت مطہرہ کے مروجہ اصولوں کے عین مطابق 30 روزے پورے کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو جائے گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کردار اور اجلاس
پاکستان میں اسلامی مہینوں کے آغاز اور اختتام کا حتمی، سرکاری اور شرعی فیصلہ جاری کرنے کا اختیار صرف اور صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ شوال 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے شرعی شہادتیں جمع کرنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کلیدی اجلاس 19 مارچ 2026 کو وفاقی دارالحکومت یا کسی اور نامزد صوبائی دارالحکومت میں منعقد ہوگا۔ اس انتہائی اہم اجلاس کی صدارت کمیٹی کے موجودہ چیئرمین مولانا سید عبد الخبیر آزاد کریں گے۔ کمیٹی کے اس طویل اجلاس میں ملک بھر کی زونل اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے مستند نمائندے، جید علمائے کرام، محکمہ موسمیات کے اعلیٰ حکام اور سپارکو کے تکنیکی ماہرین بھی اپنی پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے کے لیے شرکت کرتے ہیں۔ عوام الناس کو سرکاری سطح پر یہ خصوصی ہدایت دی جاتی ہے کہ اگر کوئی بھی شہری شوال کا چاند دیکھے تو وہ فوری طور پر اپنی قریبی اور متعلقہ زونل کمیٹیوں کو مطلع کرے۔ تاہم، چونکہ جدید فلکیاتی اور سائنسی شواہد واضح طور پر اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ 19 مارچ کو چاند کی عمر بہت کم ہوگی، اس لیے غالب امید یہی ہے کہ کمیٹی ملک بھر سے کسی بھی مصدقہ شرعی شہادتوں کے فقدان کے باعث 30 روزوں کی تکمیل کا باقاعدہ اور باضابطہ اعلان کرے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں حتمی فیصلہ ہر صورت میں کمیٹی کی پریس کانفرنس اور وزارت مذہبی امور کے سرکاری اعلامیے کے ذریعے ہی عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔
رمضان المبارک 1447 ہجری کا دورانیہ
سال 2026 میں پاکستان میں رمضان المبارک کا بابرکت اور مقدس مہینہ 19 فروری بروز جمعرات کو شروع ہوا تھا۔ فلکیاتی پیشن گوئیوں اور رویت ہلال کے شرعی اصولوں کی روشنی میں، اگر 19 مارچ کو شوال کا چاند نظر نہیں آتا، تو پاکستان کے تمام مسلمان 20 مارچ کو اپنا 30 واں روزہ رکھیں گے۔ یوں رمضان المبارک 1447 ہجری کا مکمل دورانیہ پورے 30 دنوں پر محیط ہو جائے گا۔ اسلامی تاریخ اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات کے مطابق، اگر مطلع ابر آلود ہو یا چاند نظر آنے کی کوئی بھی مستند اور شرعی شہادت موصول نہ ہو، تو مہینے کے تیس دن پورے کرنے کا واضح حکم موجود ہے۔ پاکستانی عوام اور بالخصوص روزہ دار 30 روزے ملنے کو اپنے لیے ایک عظیم روحانی سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اس طویل دورانیے سے انہیں مزید عبادات، نماز تراویح کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت اور طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے۔ تیس روزوں کی باقاعدہ تکمیل کے بعد 21 مارچ 2026 بروز ہفتہ کو ملک بھر میں یکم شوال المکرم قرار پائے گی اور پوری قوم عید کی خوشیوں اور مسرتوں میں بھرپور انداز میں شریک ہوگی۔
| اہم فلکیاتی اور سرکاری تفصیلات | مقررہ تاریخ اور وقت |
|---|---|
| پہلا روزہ اور رمضان کا آغاز (پاکستان) | 19 فروری 2026 |
| شوال 1447 ہجری کے چاند کی پیدائش | 19 مارچ 2026 (صبح 06:23 بجے) |
| چاند کی متوقع عمر (غروبِ آفتاب کے وقت) | تقریباً 12 گھنٹے اور 41 منٹ |
| مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس | 19 مارچ 2026 (بعد از نماز عصر) |
| عید الفطر کی متوقع حتمی تاریخ (پاکستان) | 21 مارچ 2026 (بروز ہفتہ) |
| عید الفطر کی متوقع تاریخ (سعودی عرب اور خلیج) | 20 مارچ 2026 (بروز جمعہ) |
عید الفطر کی سرکاری تعطیلات کا شیڈول
عید الفطر کے پرمسرت اور مبارک موقع پر حکومت پاکستان کی جانب سے ہر سال وفاقی، صوبائی، سرکاری اور نجی اداروں کے لاکھوں ملازمین کے لیے خصوصی تعطیلات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ سال 2026 میں چونکہ عید الفطر کے ہفتے کے روز ہونے کا انتہائی قوی امکان ہے، اس لیے ماہرین اور سرکاری ذرائع کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ وفاقی حکومت جمعرات 19 مارچ یا جمعہ 20 مارچ سے لے کر پیر 23 مارچ تک عید کی طویل چھٹیوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ ان طویل تعطیلات کا بنیادی مقصد محنت کش عوام کو اپنے پیاروں، دور دراز بسنے والے خاندان کے افراد اور دوست احباب کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا مناسب موقع اور وقت فراہم کرنا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین عموماً پورا سال ان چھٹیوں کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ شہروں کی مصروف زندگی سے دور اپنے آبائی دیہاتوں اور شہروں کا رخ کر سکیں اور اپنے بزرگوں کے ساتھ مل کر اس عظیم تہوار کی روایتی رونقوں کا لطف اٹھا سکیں۔ وزارت داخلہ چاند کی حتمی رویت سے چند روز قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ان چھٹیوں کا حتمی اور سرکاری نوٹیفکیشن عوام کی سہولت کے لیے جاری کرتی ہے۔
عوام کی سفری تیاریاں اور ٹرانسپورٹ کی صورتحال
عید کی طویل تعطیلات کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں سفری سرگرمیوں اور نقل و حرکت میں غیر معمولی حد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ بڑے تجارتی اور صنعتی شہروں، جیسے کہ کراچی، لاہور، فیصل آباد، اور اسلام آباد میں روزگار کے سلسلے میں مقیم لاکھوں افراد بیک وقت اپنے آبائی دیہاتوں اور قصبوں کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے نظام پر اس اچانک اور شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان ریلویز ہر سال کی طرح اس سال بھی خصوصی عید ٹرینیں چلانے کا جامع شیڈول مرتب کرے گا، جس سے متوسط طبقے کے مسافروں کو سستی اور قدرے محفوظ سفری سہولت میسر آئے گی۔ اسی طرح ملک بھر کے تمام چھوٹے اور بڑے بس ٹرمینلز اور ایئرپورٹس پر بھی مسافروں کا بے پناہ رش دیکھنے میں آتا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ٹریفک پولیس کی جانب سے مسافروں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے، موٹرویز اور ہائی ویز پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے زائد کرایہ وصولی کی بلیک میلنگ کو سختی سے روکنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جاتی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کر کے سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
عید کے موقع پر ملکی معیشت پر اثرات اور بازاروں کی رونق
عید الفطر نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی ایک زبردست تحرک اور غیر معمولی سرگرمی لے کر آتی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں، عالیشان شاپنگ مالز، اور تجارتی مراکز میں عوام کا ایک بہت بڑا ہجوم امڈ آتا ہے۔ نئے کپڑے، جدید جوتے، دلکش زیورات، رنگ برنگی چوڑیاں، اور مہندی کی دکانوں پر خاص طور پر خواتین اور بچوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ تاجر برادری اور دکانداروں کے لیے یہ سیزن پورے سال کا سب سے زیادہ منافع بخش وقت ثابت ہوتا ہے کیونکہ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق دل کھول کر خریداری کرتے ہیں۔ درزیوں، بوتیک مالکان اور فیشن ڈیزائنرز کی جانب سے نت نئے اور روایتی ڈیزائن متعارف کرائے جاتے ہیں اور چاند رات کی آخری پہر تک یہ تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہتی ہیں۔ معاشی ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق، عید کی ان طویل خریداریوں کے نتیجے میں کھربوں روپے کی رقم مارکیٹ کی گردش میں آتی ہے جس سے ملکی معیشت کو ایک عارضی مگر بہت مضبوط سہارا ملتا ہے، اور چھوٹے خوانچہ فروشوں سے لے کر بڑے صنعت کاروں اور مل مالکان تک، سب ہی اس شاندار تجارتی سرگرمی سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عید کو برصغیر کی ثقافت میں ‘میٹھی عید’ بھی کہا جاتا ہے، جس کی تیاری میں شیر خرمہ اور دیگر لذیذ پکوان بنائے جاتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش کی مارکیٹ میں بھی تیزی آتی ہے۔
صدقہ فطر اور اس کی اہمیت
عید الفطر کی بے پناہ خوشیوں اور مسرتوں میں معاشرے کے غریب، مستحق اور نادار افراد کو بھی برابر کا شریک کرنے کے لیے اسلام نے صدقہ فطر کی ادائیگی کو ہر صاحبِ استطاعت پر لازمی قرار دیا ہے۔ صدقہ فطر کی یہ مبارک رقم عید کی نماز ادا کرنے سے قبل مستحقین تک پہنچانا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ لوگ بھی اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں اور معاشرے کا کوئی بھی فرد خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ سال 2026 کے لیے بھی ملک بھر کے جید علمائے کرام، مفتیان دین، اور وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے گندم، جو، اعلیٰ کھجور، اور کشمش کی موجودہ مارکیٹ قیمتوں اور افراط زر کے تناسب سے فطرانے کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رقم کا باقاعدہ تعین کیا جائے گا۔ ہر مسلمان شہری پر شرعی لحاظ سے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے اور اپنی زیر کفالت تمام افراد کی جانب سے یہ رقم ادا کرے۔ مخیر حضرات اس بابرکت موقع پر دل کھول کر نقد عطیات اور زکوٰۃ بھی غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں جس سے معاشرے میں معاشی مساوات، ہمدردی، اخوت، اور بھائی چارے کی ایک عظیم الشان فضا پروان چڑھتی ہے۔
سعودی عرب اور دیگر ممالک میں عید کی تاریخ
عالمی سطح پر عید الفطر کی تاریخوں میں جغرافیائی محل وقوع اور رویت ہلال کے شرعی معیارات کے اعتبار سے اکثر فرق پایا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں رویت ہلال کے سائنسی اور شرعی معیارات پاکستان اور جنوبی ایشیائی ممالک سے قدرے مختلف اور ایک دن آگے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، وہاں کے عوام کو 18 مارچ 2026 کی شام شوال کا نیا چاند دیکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ چونکہ فلکیاتی اعداد و شمار کے مطابق 18 مارچ کی شام تک چاند کی پیدائش ہی نہیں ہوئی ہوگی، اس لیے سعودی عرب میں بھی 18 مارچ کو چاند نظر آنے کا امکان سائنسی اعتبار سے صفر کے برابر ہے، اور وہاں عید الفطر 20 مارچ 2026 بروز جمعہ کو ہونے کی قوی توقع ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اور کویت بھی عام طور پر سرکاری سطح پر سعودی عرب کے ساتھ ہی عید کی چھٹیوں اور نماز کا انعقاد کرتے ہیں۔ دوسری جانب، برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی و یورپی ممالک میں مقیم لاکھوں مسلمان اپنی مقامی اور بین الاقوامی رویت ہلال تنظیموں کے جاری کردہ فیصلوں کے مطابق 20 یا 21 مارچ کو عید کی خوشیاں منائیں گے۔
پاکستان اور خلیجی ممالک میں تاریخ کا فرق
پاکستان اور مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کے درمیان عید الفطر اور دیگر اسلامی مہینوں کی تاریخوں میں عموماً ایک دن کا نمایاں فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی بنیادی اور سائنسی وجہ جغرافیائی محل وقوع، ٹائم زون، اور زمین کے طول البلد و عرض البلد (Longitude and Latitude) میں پایا جانے والا فرق ہے۔ جب مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب میں چاند کی عمر اس قابل ہو جاتی ہے کہ وہ افق پر غروب آفتاب کے بعد نظر آ سکے، تو اس وقت تک پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات کافی گہری ہو چکی ہوتی ہے اور چاند افق سے نیچے جا چکا ہوتا ہے۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر کا مکمل انحصار مقامی مطلع پر رویت ہلال کی شہادت پر ہے، اس لیے دنیا کے مختلف خطوں میں عید کی تاریخوں میں قدرتی فرق آنا ایک مسلمہ فلکیاتی حقیقت اور شرعی لحاظ سے بالکل درست عمل ہے۔ پاکستانی عوام کے درمیان بعض اوقات یہ جذباتی بحث چھڑ جاتی ہے کہ پوری عالمی امت مسلمہ کو ایک ہی دن عید منانی چاہیے، لیکن جید علمائے کرام، مفتیان اعظم اور سائنسی ماہرین اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ شریعت کی رو سے اپنے مقامی مطلع اور چاند کا اعتبار کرنا ہی شرعی اصولوں اور احادیثِ نبویﷺ کے عین مطابق ہے۔
عید کے اجتماعات اور سیکیورٹی کے انتظامات
عید الفطر کی صبح پورے پاکستان میں مساجد، وسیع عید گاہوں، اور کھلے میدانوں میں نماز عید کے روح پرور اور بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عظیم الشان فیصل مسجد، لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد، اور کراچی کے نشتر پارک سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے نمایاں مقامات پر لاکھوں فرزندان توحید اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر شکرانے کے نوافل ادا کرتے ہیں۔ ان عظیم الشان اجتماعات کی حساسیت اور ملکی حالات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر سال کی طرح انتہائی سخت اور جامع سیکیورٹی انتظامات وضع کرتی ہیں۔ پولیس، رینجرز، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں مسلح اہلکار اہم مقامات پر ڈیوٹی پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ حساس قرار دی گئی مساجد اور عید گاہوں کے تمام داخلی راستوں پر جدید واک تھرو گیٹس نصب کیے جاتے ہیں، بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد سے سرچ آپریشن کیے جاتے ہیں اور شرکاء کی مکمل اور تسلی بخش تلاشی لی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، عید کی چھٹیوں کے دوران ٹریفک کے بے پناہ دباؤ اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے سیاحتی مقامات، پبلک پارکس، اور ساحل سمندر پر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے خصوصی دستے اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں تعینات کی جاتی ہیں تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور عوام پرامن ماحول میں عید منا سکیں۔
حتمی فیصلہ اور عوام کی توقعات
اگرچہ سائنس، ماہرین کی فلکیاتی تحقیقات، اور سپارکو کی جدید ترین ٹیکنالوجی نے شوال 1447 ہجری کے چاند کی پیدائش اور عید الفطر 2026 کی متوقع تاریخ کو اب انتہائی واضح اور دو ٹوک کر دیا ہے، لیکن اسلامی روایات اور ملکی قانون کے مطابق حتمی فیصلہ ہر صورت میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے باضابطہ اعلان پر ہی منحصر ہوگا۔ پاکستانی عوام 29 رمضان المبارک یعنی 19 مارچ کی شام کو اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی براہ راست نشریات سے پوری طرح جڑے رہیں گے تاکہ رویت ہلال کمیٹی کا سرکاری اعلان سن سکیں۔ سائنسی شواہد کی بنیاد پر 21 مارچ 2026 کو متوقع عید الفطر بلاشبہ پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک ایسا عظیم اور پرمسرت موقع ثابت ہوگا جو نہ صرف خاندانوں اور دور دراز کے رشتہ داروں کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا بلکہ ملک بھر میں معاشی، سماجی، اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کو بھی بے پناہ فروغ دے گا۔ ہر پاکستانی شہری اس مبارک اور مقدس دن کے بے صبری سے انتظار میں ہے تاکہ وہ اپنے رحیم و کریم خالق کا شکر ادا کر سکے، صدقہ فطر کے ذریعے غریبوں کی مدد کر سکے اور اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ عید کی ان لازوال خوشیوں کو بھرپور انداز میں بانٹ سکے۔

Leave a Reply