تلسی گبارڈ اور پاکستان کے میزائل: عالمی سیاست اور دفاعی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ

تلسی گبارڈ اور پاکستان کے میزائل پروگرام کے حوالے سے حالیہ مباحث نے عالمی سیاست اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی، گہری اور انتہائی پیچیدہ بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہیں امریکی کانگریس کی سابق رکن اور صدارتی امیدوار تلسی گبارڈ کے بیانات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے خدوخال کو واضح کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن میں پالیسی ساز پاکستان کے دفاعی اور میزائل پروگرام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم ان تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیں گے، تاریخی پس منظر کو کھنگالیں گے، اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالیں گے۔

تلسی گبارڈ کے بیانات کا پس منظر اور عالمی اہمیت

عالمی دفاعی امور میں کسی بھی امریکی سیاست دان کا بیان محض ایک رائے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس مخصوص لابی اور مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی ایوانوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ تلسی گبارڈ، جو کہ اپنی عدم مداخلت پر مبنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، اکثر اوقات ان ممالک کے حوالے سے سخت موقف اپناتی ہیں جنہیں وہ امریکی مفادات کے لیے براہ راست یا بالواسطہ خطرہ سمجھتی ہیں۔ ان کے بیانات کا پس منظر دراصل اس طویل المدتی امریکی پالیسی سے جڑا ہے جو نائن الیون کے بعد سے دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی اور ایٹمی پھیلاؤ کی روک تھام پر مرکوز رہی ہے۔ جب ہم عالمی سیاست کے رجحانات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل اثاثے ہمیشہ سے مغربی مبصرین کے لیے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ گبارڈ کا موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکا میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو علاقائی عدم استحکام کا سبب گردانتا ہے، حالانکہ پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور علاقائی امن کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

امریکی سیاست میں پاکستان کا ذکر

امریکی سیاست اور انتخابی مہمات میں خارجہ پالیسی کا تذکرہ عموماً مخصوص ممالک کے گرد گھومتا ہے، جن میں مشرق وسطیٰ کے ممالک، چین، روس، اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان کا ذکر بالخصوص اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب بات افغانستان سے انخلا، دہشت گردی کے خلاف جنگ، یا پھر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی ہو۔ امریکی کانگریس میں پاکستان کے دفاعی بجٹ اور اس کے میزائل تجربات پر باقاعدگی سے بریفنگز دی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں تلسی گبارڈ جیسی شخصیات کا بیانیہ ان امریکی شہریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بیرون ملک فوجی اور مالی امداد کی فراہمی کے خلاف ہیں۔ یہ بیانیے نہ صرف امریکی سیاسی منظر نامہ کو تبدیل کرتے ہیں بلکہ امریکی انتظامیہ پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور عسکری تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ اس طرح کے سیاسی مباحثوں سے پاک امریکہ تعلقات میں اکثر تناؤ اور بداعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے جس کا براہ راست اثر خطے کی سلامتی پر پڑتا ہے۔

پاکستان کے میزائل پروگرام کی نوعیت اور تاریخی ارتقاء

پاکستان کے میزائل پروگرام کی نوعیت اور تاریخی ارتقاء پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ محض طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں بلکہ قومی بقا اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی عسکری بجٹ اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کی تنصیب کے جواب میں پاکستان نے اپنی ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کیا ہے۔ پاکستان کا میزائل پروگرام نوے کی دہائی میں اس وقت تیزی سے پروان چڑھا جب بھارت نے اپنے پرتھوی اور اگنی میزائلوں کے تجربات شروع کیے۔ پاکستان نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کی زیر نگرانی اپنے میزائلوں کے مختلف ورژنز تیار کیے جن میں حتف سیریز سرفہرست ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دشمن پر یہ واضح کرنا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان بھرپور اور تباہ کن جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے نظریے کی بنیاد ہے، جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

بیلسٹک میزائل اور کروز میزائل کی جدید صلاحیتیں

پاکستان نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تیاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ غوری، شاہین، اور ابابیل جیسے بیلسٹک میزائل طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ابابیل میزائل، جو کہ ملٹیپل انڈیپینڈنٹلی ٹارگیٹ ایبل ری اینٹری وہیکل (MIRV) ٹیکنالوجی سے لیس ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دشمن کا کوئی بھی اینٹی بیلسٹک میزائل نظام پاکستان کی جوابی کارروائی کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ دوسری جانب بابر اور رعد جیسے کروز میزائل بھی موجود ہیں جو زمین اور فضا سے فائر کیے جا سکتے ہیں اور اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

میزائل کا نام قسم تخمینی رینج خصوصیت
غوری (حتف 5) میڈیم رینج بیلسٹک میزائل 1,300 کلومیٹر مائع ایندھن، ایٹمی صلاحیت
شاہین III میڈیم رینج بیلسٹک میزائل 2,750 کلومیٹر ٹھوس ایندھن، پورے بھارت تک رسائی
ابابیل میڈیم رینج بیلسٹک میزائل 2,200 کلومیٹر MIRV ٹیکنالوجی سے لیس
بابر (حتف 7) کروز میزائل 700 کلومیٹر زمین، سمندر اور فضا سے داغنے کی صلاحیت
نصر (حتف 9) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل 60-70 کلومیٹر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا توڑ

تلسی گبارڈ کی دفاعی حکمت عملی پر تنقید اور تجاویز

تلسی گبارڈ کی دفاعی حکمت عملی پر تنقید کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات کو انتہائی سادہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کے مخالفین کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے اہم جیو اسٹریٹجک ملک کے حوالے سے ان کی پالیسیاں حقائق پر مبنی ہونے کے بجائے سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالتا ہے یا تنقید کرتا ہے، تو اس سے پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف مزید بڑھ جائے گا، جو کہ پہلے ہی خطے میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ تلسی گبارڈ کی جانب سے اکثر یہ تجاویز دی گئی ہیں کہ امریکہ کو غیر ضروری بیرونی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور ان ممالک کی مالی اور فوجی امداد بند کر دینی چاہیے جو امریکی اصولوں پر پورے نہیں اترتے۔ تاہم، عالمی سفارت کاری میں مکمل علیحدگی کی پالیسی کبھی بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ واشنگٹن کے زیادہ تر پالیسی ساز اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے ساتھ انگیجمنٹ (رابطہ) رکھنا خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

خطے میں طاقت کا توازن اور ایٹمی ڈیٹرنس

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک انتہائی حساس اور نازک موضوع ہے۔ بھارت کی جانب سے نئے اینٹی بیلسٹک میزائل (ABM) سسٹمز کی تنصیب اور ایس-400 (S-400) فضائی دفاعی نظام کی خریداری نے اس توازن کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے میزائل پروگرام کی جدت طرازی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ نصر (Nasr) جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے ٹیکٹیکل میزائلوں کی تیاری کا مقصد بھارت کی متنازعہ ’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ کا راستہ روکنا ہے۔ پاکستان کا یہ اسٹریٹجک نظریہ کہ وہ روایتی جنگ کو کم سے کم وقت میں ختم کرنے اور دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ علاقائی دفاعی حکمت عملی کے ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی یہ ڈیٹرنس صلاحیت ہی دراصل وہ واحد عنصر ہے جس نے جنوبی ایشیا کو اب تک کسی بڑی روایتی جنگ سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔

جنوبی ایشیا کی سیاست پر ان بیانات کے اثرات

جنوبی ایشیا کی سیاست عالمی طاقتوں کے بیانات سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ تلسی گبارڈ کے بیانات جب عالمی سطح پر رپورٹ ہوتے ہیں تو اس سے بھارتی میڈیا کو ایک نیا بیانیہ تراشنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے میزائل اور جوہری پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جائے۔ امریکی سیاست دانوں کے ایسے بیانات بھارت کی اس مہم کو تقویت بخشتے ہیں اور وہ اسے سفارتی محاذ پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، پاکستان کا دفتر خارجہ ایسے بیانات پر انتہائی محتاط اور نپا تلا ردعمل دیتا ہے، جس میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی پالیسیاں کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہیں۔ خطے کی سیاست میں ان بیانات کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت پر اندرونی سطح پر دباؤ بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اور قومی سلامتی کے امور میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر دے۔

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی سفارتی کردار

پاک بھارت کشیدگی کے دوران امریکی سفارتی کردار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی، خواہ وہ کارگل کا تنازع ہو یا پلوامہ حملے کے بعد فروری 2019 کا بحران، امریکہ نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ لیکن جب تلسی گبارڈ جیسے سیاست دان یک طرفہ بیانات دیتے ہیں تو امریکہ کا غیر جانبدار ثالث کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے۔ پاکستان بجا طور پر یہ سمجھتا ہے کہ امریکی قانون سازوں کو خطے کی پیچیدگیوں کو سمجھنا چاہیے اور بھارت کی بالادستی کے عزائم کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔ دوہرے معیار کی یہ پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتی ہے جو خطے میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا اور تجزیہ کاروں کا ردعمل

اس تمام تر صورتحال پر بین الاقوامی میڈیا کا ردعمل بھی قابل غور ہوتا ہے۔ مغربی نشریاتی ادارے اور تھنک ٹینکس اکثر اوقات ان بیانات کو اپنی شہ سرخیوں کا حصہ بناتے ہیں۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق، تلسی گبارڈ کے پاکستان سے متعلق بیانات ان کی وسیع تر جیو پولیٹیکل فلاسفی کا حصہ ہیں، لیکن یہ زمینی حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جس کا نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی (NCA) کا نظام دنیا کے بہترین اور محفوظ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سمیت متعدد عالمی اداروں نے پاکستان کی جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی کی تعریف کی ہے۔ لہٰذا، میزائل پروگرام کو بنیاد بنا کر پاکستان پر تنقید کرنا ایک کمزور سیاسی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک ٹھوس سائنسی اور اسٹریٹجک حقیقت کی نفی نہیں کر سکتا۔ مغربی میڈیا کے باشعور حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کا میزائل پروگرام خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

مستقبل کے پاک امریکہ تعلقات کا لائحہ عمل

مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن کی نئی انتظامیہ اور کانگریس خطے کی بدلتی ہوئی حرکیات کو کس طرح سمجھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی عسکری طاقت اسے ایک ایسا ملک بناتی ہے جسے نظر انداز کرنا امریکہ کے لیے ممکن نہیں۔ تلسی گبارڈ جیسی آوازیں امریکی معاشرے میں موجود ایک مخصوص سوچ کی عکاسی ضرور کرتی ہیں لیکن یہ حتمی امریکی ریاستی پالیسی نہیں بن سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنا سفارتی اثر و رسوخ بڑھائے اور امریکی تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں کو حقائق سے آگاہ کرے۔ دوطرفہ تعلقات کو صرف سیکیورٹی اور ڈیٹرنس کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے، معاشی، تجارتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ جب تک پاک امریکہ تعلقات میں باہمی احترام اور ایک دوسرے کی سلامتی کی ضروریات کو تسلیم کرنے کا عنصر شامل نہیں ہوگا، تب تک اس قسم کے سیاسی بیانات اور ان سے پیدا ہونے والے تنازعات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مجموعی طور پر، پاکستان کو اپنے دفاعی پروگرام، بالخصوص میزائل ٹیکنالوجی، پر فخر ہونا چاہیے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *