آپریشن غضب الحق: پاک فوج کی فیصلہ کن کارروائی اور جائزہ

 موجودہ دور میں پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک ایسا باب بن چکا ہے جس نے ملکی سلامتی اور سرحد پار موجود دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو واضح کر دیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے شروع کیا جانے والا یہ عسکری اقدام ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی ایک کڑی ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد ان عناصر اور شرپسند گروہوں کا قلع قمع کرنا ہے جو افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر عدم استحکام اور بدامنی پھیلانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں۔ ہمہ جہت اور کثیرالجہتی نوعیت کے اس اقدام نے خطے کے عسکری اور تزویراتی منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس تفصیلی جائزے میں ہم اس عظیم مہم کے محرکات، درپیش چیلنجز، حاصل ہونے والی شاندار کامیابیاں اور اس کے علاقائی و عالمی سطح پر مرتب ہونے والے دوررس اثرات کا گہرائی سے مطالعہ کریں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہنے کی کوشش کی ہے، لیکن جب بات ملکی خود مختاری اور معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ہو، تو کسی بھی قسم کی دراندازی یا کھلی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ قومی سلامتی کے اداروں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دشمن کو اس کی نرسریوں میں ہی ختم کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔

آپریشن غضب الحق کا پس منظر اور وجوہات

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی لازوال جنگ اور قربانیاں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں پاک افغان بارڈر، جسے تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، پر کشیدگی میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ برس اکتوبر کے دوران دی گئی بار بار کی وارننگز کے باوجود، افغان عبوری حکومت نے پاکستان مخالف عناصر بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر خوارج کو لگام دینے میں مکمل ناکامی کا ثبوت دیا۔ ان دہشت گرد گروہوں نے سرحد پار سے پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بزدلانہ کارروائیاں کیں، جس سے بے گناہ عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا جانی نقصان ہوا۔ پاک فوج کے اعلیٰ حکام نے ان واقعات کے بعد بارہا اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ جب افغان بارڈر فورسز اور طالبان کی جانب سے باجوڑ، خیبر، مہمند، کرم، اور چترال سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی، تو پاکستان کی مسلح افواج اور ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ باجوڑ میں ایک پرامن مسجد کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا جو کہ کھلی جارحیت اور بین الاقوامی انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی تھی۔ ان تمام اشتعال انگیز واقعات نے ملکی سلامتی کے اداروں اور ریاستی پالیسی سازوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا جامع، سخت اور فیصلہ کن قدم اٹھائیں جس سے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا جا سکے۔

سرحد پار سے ہونے والی جارحیت اور پاکستان کا مؤقف

پاکستان کے اعلیٰ عسکری اور سول حکام نے اپنے مؤقف میں ہمیشہ یکسانیت اور پختگی رکھی ہے کہ دہشت گردی ایک سنگین بین الاقوامی مسئلہ ہے اور افغان سرزمین کو کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عسکری قیادت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں یہ بات پوری صراحت اور سختی کے ساتھ کہی گئی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنا حقِ دفاع مکمل طور پر محفوظ رکھتا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور آخری حد تک قدم اٹھایا جائے گا۔ جب سرحد پار سے حملوں میں شدت آئی تو پاکستانی قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے ذیلی اداروں نے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی ترتیب دی تاکہ دشمن کی دراندازی کے تمام راستوں کو سختی سے مسدود کیا جا سکے۔ یہ انتہائی کارروائی کسی مخصوص قوم یا برادر ملک کے خلاف ہرگز نہیں بلکہ خالصتاً ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ہے جو خطے کا امن و سکون تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

فضائی حملے اور نشانہ بننے والے اہم مقامات

اس وسیع کارروائی کے تحت پاکستان کی مسلح افواج اور بالخصوص پاک فضائیہ کے شاہینوں نے انتہائی مہارت، اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور ٹھوس انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سرحد کے اس پار فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ ان فضائی کارروائیوں میں دشمن کے انتہائی حساس اور خفیہ ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی گئی۔ پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی پریس بریفنگ کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بائیس سے زائد مخصوص مقامات پر دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے دوران اس بات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا اور احتیاط برتی گئی کہ عام شہریوں کا کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان یعنی کولیٹرل ڈیمیج نہ ہو۔ یہ فضائی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاک فضائیہ کی صلاحیتیں جدید ترین ٹیکنالوجی اور بہترین حربی حکمت عملی سے لیس ہیں۔

کابل، قندھار اور پکتیا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی

دہشت گردوں کے سب سے اہم، محفوظ اور مضبوط سمجھے جانے والے مراکز پر تابڑ توڑ اور اچانک حملے کیے گئے۔ افغان دارالحکومت کابل میں واقع 313 کور کے ایمونیشن ڈمپ پر ایک انتہائی تباہ کن حملہ کیا گیا، جس میں بارود کے وسیع اور خفیہ ذخائر کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دیا گیا۔ اس حملے میں ہونے والے ثانوی دھماکوں (سیکنڈری ڈیٹونیشن) کے شعلوں اور شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کس قدر بھاری مقدار میں غیر قانونی بارود اور اسلحہ جمع کیا گیا تھا جو مستقبل میں پاکستان کے خلاف استعمال ہونا تھا۔ اس کے علاوہ قندھار کے علاقے تراوو میں دہشت گردوں کے ایک انتہائی اہم کیمپ اور لاجسٹک انفراسٹرکچر پر کاری ضرب لگائی گئی جس سے ان کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ صوبہ پکتیا کے علاقے شیرِ ناؤ میں بھی دہشت گردوں کے بڑے تربیتی کیمپوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں سے خوارج کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ گئی اور ان کی منصوبہ بندی اور آپریشنل صلاحیتیں شدید طور پر متاثر ہوئیں۔

ننگرہار اور دیگر علاقوں میں اسلحہ ڈپوؤں پر کاری ضرب

صرف کابل اور قندھار ہی نہیں، بلکہ ننگرہار، خوست اور پکتیکا کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بھی دہشت گردوں کی محفوظ ترین پناہ گاہوں اور بارود کے بڑے ذخائر کو چن چن کر تباہ کیا گیا۔ ننگرہار کے علاقے میں ایک بہت بڑے اور خفیہ اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے دشمن کی لائف لائن اور سپلائی لائن مکمل طور پر کٹ کر رہ گئی۔ ان فضائی اور زمینی کارروائیوں کی بدولت سرحد پار موجود دہشت گردوں کے مضبوط نیٹ ورک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی افواج نے اس بات کا عملی اور ٹھوس مظاہرہ کیا ہے کہ جو بھی شرپسند عناصر ملک عزیز کے خلاف سازشیں کریں گے، انہیں روئے زمین پر کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

آپریشن کے دوران ہونے والے نقصانات کی تفصیلات

عسکری علوم کے مطابق، کسی بھی بڑے اور اہم آپریشن کی کامیابی کا حتمی اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دشمن کی قوت کو کس حد تک کمزور کیا گیا اور اسے کتنا مالی اور جانی نقصان پہنچایا گیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاک فوج کی حالیہ کارروائیاں بے مثال اور انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔

دشمن کے جانی اور مالی نقصانات کے اعداد و شمار

دستیاب مصدقہ اطلاعات اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس تاریخی مہم میں دشمن کو میدان جنگ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جاری کردہ رپورٹس کے مطابق 700 سے زائد خطرناک دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 938 سے زیادہ افراد شدید زخمی حالت میں ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے والی 255 سے زائد افغان سرحدی چوکیاں اور 237 کے قریب ٹینک اور آرٹلری کے مختلف بھاری ہتھیار تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ حیران کن اور زبردست اعداد و شمار اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ دشمن کے عسکری ڈھانچے کو کس حد تک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ان غیر معمولی نقصانات کی وجہ سے خوارج اور ان کے تمام پشت پناہ شدید خوف و ہراس اور مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔

صوبہ / علاقہ نشانہ بننے والی کلیدی تنصیبات نقصانات اور تباہی کی نوعیت / تفصیل
کابل اور مضافات 313 کور ایمونیشن ڈمپ انتہائی حساس بارود کے وسیع ذخائر اور لاجسٹک ڈھانچے کی مکمل تباہی
قندھار (تراوو) خفیہ دہشت گرد کیمپ اور آئل سٹوریج زیر زمین تربیتی مراکز اور تیل کے غیر قانونی ذخائر کو ملیا میٹ کیا گیا
پکتیا (شیر ناؤ) دہشت گردوں کے عسکری تربیتی مراکز شرپسندوں کے کیمپ، انفراسٹرکچر اور سپلائی روٹس مکمل مسدود
ننگرہار و خوست زیر زمین اسلحہ اور ایمونیشن ڈپو کثیر مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود کی تباہی اور درجنوں ہلاکتیں

عارضی جنگ بندی اور سفارتی کوششیں

میدانِ جنگ میں اپنی شاندار برتری اور عسکری طاقت کا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی اپنی پختگی اور دانش مندی کا واضح ثبوت دیا ہے۔ اسلام نے ہمیشہ امن، رواداری اور درگزر کی تعلیم دی ہے اور ریاست پاکستان اسی سنہرے اصول پر گامزن ہے۔ اگرچہ دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نمٹا جا رہا ہے، تاہم خطے کے دیگر اسلامی ممالک کی درخواستوں پر مثبت ردعمل دینا پاکستان کی اعلیٰ ظرفی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر تازہ ترین خبروں کے ذریعے ان سفارتی پیشرفتوں کو دیکھتے اور پرکھتے رہتے ہیں جو خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی ثالثی

عید الفطر کے پرمسرت اور مقدس موقع کے پیش نظر، دنیا کے اہم اور برادر اسلامی ممالک جن میں بالخصوص سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سر فہرست ہیں، کی جانب سے ایک عارضی جنگ بندی کی خصوصی اپیل کی گئی۔ ان ممالک نے امن، بھائی چارے اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت درخواست کی تاکہ خطے کے عوام بالخصوص افغان شہری پرامن اور پرسکون ماحول میں عید کی خوشیاں منا سکیں۔ اس مخلصانہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کی وفاقی حکومت اور اعلیٰ عسکری قیادت نے 18 مارچ سے 24 مارچ تک عسکری کارروائیوں میں ایک عارضی وقفے اور جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ تاہم، ریاستی حکام نے انتہائی واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس جنگ بندی کا مطلب ہرگز یہ نہیں سمجھا جائے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی کڑی حفاظت سے غافل ہو گیا ہے؛ کسی بھی قسم کی چھوٹی یا بڑی دراندازی، ڈرون حملے یا فائرنگ کی صورت میں فوری، سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

قومی سلامتی کے تقاضے اور مستقبل کی حکمت عملی

یہ بے مثال عسکری مہم پاکستان کی طویل مدتی دفاعی حکمت عملی کا ایک انتہائی اہم اور لازمی ستون بن چکی ہے۔ ملکی دفاع کے ضامن اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنی پریس بریفنگز میں انتہائی واضح الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ جو شرپسند افراد پاکستان کے معصوم شہریوں، مقدس مساجد، تعلیمی اداروں، سکولوں اور سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ خواہ روئے زمین پر کہیں بھی جا کر پناہ لے لیں، پاکستان کے قانون کے طویل بازو ان تک ہر صورت پہنچ کر رہیں گے۔ مستقبل کی تزویراتی حکمت عملی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہے کہ جب تک دہشت گردی کا مکمل اور حتمی خاتمہ نہیں ہو جاتا اور ملکی سلامتی سو فیصد یقینی نہیں بنائی جاتی، یہ مہم پورے زور و شور سے اور کسی نہ کسی صورت جاری رہے گی۔ سرحدی نگرانی کو مزید سخت اور فول پروف کیا جا رہا ہے اور جدید ترین ریڈار ٹیکنالوجی، نائٹ ویژن کیمروں، نگرانی کرنے والے ڈرونز، اور کواڈکاپٹرز کے باقاعدہ استعمال کے ذریعے دشمن کی ہر چھوٹی بڑی نقل و حرکت پر کڑی اور چوکنا نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔

سیاسی و عسکری قیادت کا عزم

ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت اس نازک اور اہم قومی معاملے پر مکمل طور پر ایک پیج پر اور متحد ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے کیا جانے والا منفی پروپیگنڈا اور الزام تراشیاں قطعی طور پر بے بنیاد، جھوٹی اور دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ پاکستان اپنے نہتے شہریوں کی حفاظت اور ملکی بقا کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ اسی طرح دیگر ممتاز سیاسی رہنماؤں، جن میں بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل ہیں، نے بھی افواج پاکستان کے ہر اقدام کی مکمل، غیر مشروط اور بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملکی خود مختاری، سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پوری پاکستانی قوم اس کڑے اور امتحانی وقت میں اپنی بہادر مسلح افواج کی پشت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

علاقائی امن پر آپریشن کے دوررس اثرات

اس عظیم مہم کے اثرات محض پاک افغان سرحد تک محدود نہیں، بلکہ پورے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے لیے ایک انتہائی مضبوط اور واضح پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم اس نازک صورتحال کا بغور جائزہ عالمی خبروں کے تناظر میں لیں، تو دنیا بھر کے معروف اور مستند دفاعی تجزیہ نگار اس بات پر مکمل متفق دکھائی دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کی یہ کڑی کارروائیاں خطے میں پائیدار امن، ترقی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ بیرونی اور اندرونی عناصر جو طویل عرصے سے دہشت گردوں کو اپنے مذموم سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، ان کے تمام ناپاک عزائم اب خاک میں ملا دیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو بھی یہ دو ٹوک پیغام ملا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی ذمہ دار، ایٹمی صلاحیت کی حامل اور پرامن ریاست ہونے کے باوجود اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے ہرگز گریز نہیں کرے گا۔ اگر پڑوسی ملک کی سرزمین سے مستقبل میں بھی دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا رہا اور خوارج کو پناہ گاہیں فراہم کی جاتی رہیں، تو اس کے بھیانک نتائج نہ صرف ان براہ راست دہشت گردوں بلکہ ان کی مالی اور اخلاقی معاونت کرنے والے سرپرستوں کو بھی یکساں طور پر بھگتنا پڑیں گے۔ یہ عسکری اقدام دراصل خطے میں مستقل اور دیرپا امن قائم کرنے کی ایک بڑی، جرات مندانہ اور موثر ترین کوشش ہے جس کے ثمرات آنے والی نسلوں کو ایک انتہائی محفوظ، خوشحال اور مستحکم خطے کی صورت میں ملیں گے۔ اس طرح کی غیر جانبدارانہ، جامع اور تحقیقی رپورٹنگ اور گہرے تجزیات پیش کرنے کے لیے ہماری ہماری ادارتی پالیسی ہمیشہ سے ٹھوس حقائق، غیر متزلزل حب الوطنی اور وسیع تر ملکی مفاد پر مبنی رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان مخلصانہ اور بہادرانہ کاوشوں کے نتیجے میں خطے سے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا اور امن کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *