اسرائیل حزب اللہ تنازعہ: مارچ 2026 کی موجودہ صورتحال اور پس منظر
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم موجودہ جنگ کی جڑیں نومبر 2024 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی ناکامی میں پیوست ہیں۔ جنگ بندی کے اس معاہدے کا مقصد خطے میں قیام امن تھا، مگر بدقسمتی سے یہ محض ایک عارضی اور کھوکھلا اقدام ثابت ہوا۔ اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) کی رپورٹس کے مطابق، اس جنگ بندی کے دورانیے میں اسرائیل نے ہزاروں بار لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور جنوبی لبنان میں مسلسل بمباری جاری رکھی۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ مجتمع کیا اور دریائے لیتانی کے شمال میں انخلاء کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔
نومبر 2024 کی جنگ بندی اور اس کی ناکامی کے اسباب
نومبر 2024 کی جنگ بندی، جو امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں طے پائی تھی، بنیادی طور پر اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ اس میں اسرائیل کو یہ صوابدیدی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں کارروائی کر سکتا ہے۔ اس مبہم شق نے اسرائیل کو لبنان کے اندر مسلسل حملے جاری رکھنے کا جواز فراہم کیا۔ دریں اثناء، لبنانی مسلح افواج (LAF) جنوبی لبنان میں مکمل حکومتی عملداری قائم کرنے میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر بگڑ گیا۔ عالمی سیاسیات اور مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تجزیے کے لیے آپ ہماری عالمی خبروں کی کیٹیگری کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
مارچ 2026 کی جنگ کا آغاز: ایران پر حملے اور حزب اللہ کا ردعمل
موجودہ جنگ کا باقاعدہ آغاز 2 مارچ 2026 کو اس وقت ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹوں اور ڈرونز کی شدید برسات کر دی۔ یہ حملہ دراصل 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے اس مشترکہ حملے کا ردعمل تھا جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے نے پورے خطے میں اشتعال کی آگ بھڑکا دی اور حزب اللہ، جو کہ خطے میں ایران کا سب سے بڑا اتحادی اور پراکسی تصور کیا جاتا ہے، نے انتقامی کارروائی کے طور پر لبنان کو ایک ہمہ گیر جنگ میں جھونک دیا۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی اور شدید جھڑپیں
حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے جواب میں، اسرائیل نے فوری طور پر لبنان پر ایک وسیع فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا جس کا واضح مقصد حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا تھا۔ 16 مارچ 2026 کو اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے جنوبی لبنان میں باقاعدہ زمینی دراندازی کا آغاز کیا۔ سرحد پر اسرائیل نے اپنی چار بریگیڈز اور ٹینکوں کے کالم تعینات کیے اور مختلف مقامات سے لبنان کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
خیام اور عیتا الشعب کے محاذ پر گھمسان کی جنگ
اس وقت زمینی لڑائی کا مرکز جنوبی لبنان کے کلیدی اور اسٹریٹجک علاقے ہیں، جن میں خاص طور پر ‘خیام’ کا پہاڑی شہر شامل ہے۔ خیام کا شہر ایک اونچی سطح مرتفع پر واقع ہے جہاں سے وادی حُلا اور اسرائیلی سرحد کی جانب جانے والے اہم راستوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ اور توپ خانے کی جانب سے مسلسل بمباری کے باوجود، حزب اللہ کے گوریلا جنگجوؤں نے شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح ‘عیتا الشعب’ کے سرحدی گاؤں میں بھی اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جس نے جنگ کی شدت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اس تنازعے کی روزمرہ پیش رفت اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہماری تازہ ترین اشاعتوں کا صفحہ وزٹ کریں۔
لبنان میں انسانی بحران: ہلاکتیں اور نقل مکانی کے اعداد و شمار
جنگ کے اثرات عام شہریوں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ لبنان کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں خواتین، بچے اور طبی امدادی کارکنان بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2,500 سے زیادہ افراد شدید زخمی ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال نقل مکانی کرنے والوں کی ہے۔ اس وقت لبنان کی کل آبادی کا تقریباً 19 فیصد حصہ، یعنی 10 لاکھ سے زائد افراد، بے گھر ہو چکے ہیں۔
| تفصیلات | اعداد و شمار (مارچ 2026 تک) |
|---|---|
| ہلاکتیں (لبنان) | 1,000 سے زائد (بشمول خواتین و بچے) |
| زخمیوں کی تعداد | 2,500 سے زائد |
| نقل مکانی کرنے والے افراد | 10 لاکھ سے تجاوز (آبادی کا 19 فیصد) |
| شامی پناہ گزینوں کی واپسی | تقریباً 1,19,000 |
| اہم جنگی محاذ | خیام، عیتا الشعب، بیروت کے جنوبی مضافات |
شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا نیا سلسلہ
لبنان میں مقیم شامی پناہ گزین اس جنگ سے دوہری اذیت کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار شامی پناہ گزین لبنان چھوڑ کر واپس شام جا چکے ہیں۔ 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ویسے ہی لاکھوں شامی اپنے وطن لوٹ رہے تھے، مگر اب لبنان میں ہونے والی بے تحاشا بمباری نے اس انخلاء میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔
حزب اللہ کے خلاف لبنان کے اندرونی غم و غصے میں اضافہ
ماضی میں حزب اللہ کو لبنان کی شیعہ کمیونٹی کی جانب سے غیر متزلزل حمایت حاصل رہی ہے۔ چاہے 2006 کی جنگ ہو یا شام اور یمن میں تنظیم کی مداخلت، حزب اللہ کا حامی طبقہ ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہا۔ تاہم، 2026 کی اس جنگ نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ مقامی آبادی کی جانب سے حزب اللہ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے ایران کی خاطر لبنان کو ایک بے مقصد اور تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ مختلف خطوں میں جنگی اثرات کی مزید تفصیلات آپ ہماری خصوصی رپورٹس کی فہرست میں پڑھ سکتے ہیں۔
لبنانی حکومت کا موقف اور حزب اللہ سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
لبنانی عوام کو دو سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ بے گھر ہونے والے کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں اپنے کپڑے تک تبدیل کرنے کا موقع نہیں ملا اور ہم رات کے پہر جان بچا کر بھاگے۔’ مقامی آبادی کی اس ناراضگی کے ساتھ ساتھ لبنان کی مرکزی حکومت نے بھی انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام نے حزب اللہ کی انفرادی جنگی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال کر اپنے تمام عسکری وسائل ریاست کے کنٹرول میں دے دے۔
عالمی برادری کا کردار اور اقوام متحدہ کی تشویش
جنگ کے بڑھتے ہوئے شعلوں نے عالمی برادری کو بھی سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یونیفل (UNIFIL) نے بارہا فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن زمینی حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکہ، فرانس اور کینیڈا جیسی عالمی طاقتیں لبنان کی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرے اور قرارداد 1701 پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائے۔ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مزید عالمی رپورٹس جاننے کے لیے الجزیرہ عربی کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔
مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر اس جنگ کے معاشی و سیاسی اثرات
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور دریائے لیتانی کے شمال تک پیچھے نہیں دھکیلا جاتا، وہ کسی قسم کے مذاکرات یا جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ اس ہٹ دھرمی اور حزب اللہ کی جانب سے مسلسل جوابی کارروائیوں نے جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ معاشی لحاظ سے لبنان کا انفراسٹرکچر جو پہلے ہی شدید معاشی بحران کی زد میں تھا، اب مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ بیروت کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بمباری سے نہ صرف رہائشی عمارتیں بلکہ تجارتی مراکز بھی ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس تنازعے کے خطے پر طویل مدتی اثرات سمجھنے کے لیے ہمارے اہم صفحات کا مطالعہ کریں۔
2006 سے 2024 تک: تنازعات کی ایک طویل اور خونی تاریخ
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو اسرائیل اور لبنان کے مابین تنازعات کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے۔ 2006 میں ہونے والی چونتیس روزہ جنگ نے دونوں ممالک کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس وقت حزب اللہ کے سابق لیڈر حسن نصراللہ نے جنگ کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان کی تعمیر نو کی وسیع مہم کی قیادت کی تھی۔ تاہم اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد خطے کی صورتحال ایک بار پھر بگڑ گئی۔ حزب اللہ نے غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی لبنان سے اسرائیل پر حملے شروع کر دیے، جس کا نتیجہ 2024 میں لبنان پر اسرائیلی حملے اور حسن نصراللہ سمیت تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کی صورت میں نکلا۔ ان واقعات نے موجودہ جنگ کی بنیاد رکھی جسے ہم آج مارچ 2026 میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔
دریائے لیتانی کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت، یہ طے پایا تھا کہ دریائے لیتانی کے جنوب میں صرف لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج (UNIFIL) ہی تعینات ہو سکے گی، جبکہ حزب اللہ سمیت کسی بھی مسلح گروہ کا وہاں کوئی وجود نہیں ہوگا۔ دریائے لیتانی لبنان کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسرائیلی دفاعی نقطہ نظر سے، اگر حزب اللہ کے جنگجو اس دریا کے شمال میں چلے جائیں تو وہ اسرائیلی سرحدی بستیوں پر اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلوں اور چھوٹے راکٹوں سے موثر حملے نہیں کر سکیں گے۔ موجودہ زمینی حملے کا ایک بڑا جواز یہی دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس علاقے کو زبردستی غیر عسکری بفر زون میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
اسرائیل کے اندرونی حالات اور شمالی بستیوں کا انخلاء
صرف لبنان ہی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی اس تنازعے کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ شمالی اسرائیل کی بستیاں مسلسل راکٹ حملوں کی زد میں ہیں، جس کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب اسرائیلی باشندوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔ اسرائیلی حکومت پر اندرونی سیاسی دباؤ بھی عروج پر ہے کہ وہ جلد از جلد شمالی بستیوں میں سکیورٹی کی صورتحال کو بحال کرے تاکہ بے گھر ہونے والے اسرائیلی شہری اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
جدید فضائی قوت اور گوریلا جنگ کا ٹکراؤ
عسکری ماہرین اس تنازعے کو ایک غیر روایتی اور غیر متناسب جنگ قرار دے رہے ہیں۔ ایک جانب اسرائیل کی جدید ترین فضائیہ ہے، جس کے پاس آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ٹارگیٹنگ سسٹمز اور تباہ کن میزائل موجود ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے جنگجو ہیں، جو جنوبی لبنان کے پیچیدہ اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے بخوبی واقف ہیں اور گوریلا جنگ کی مہارت رکھتے ہیں۔ زیر زمین سرنگوں کا جال اور چھوٹے ہتھیاروں کے مؤثر استعمال کی وجہ سے حزب اللہ کی دفاعی لائنوں کو توڑنا اسرائیلی افواج کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔
ایران کا پراکسی نیٹ ورک اور خطے میں کشیدگی کا پھیلاؤ
یہ جنگ صرف اسرائیل اور لبنان تک محدود نہیں ہے۔ فروری 2026 میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد، ایران کا پورا خطے میں پھیلا ہوا پراکسی نیٹ ورک شدید غصے کی حالت میں ہے۔ عراق، شام اور یمن میں موجود ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیمیں کسی بھی وقت اس تنازعے میں مکمل طور پر کود سکتی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کی کوئی سرحد مقرر نہیں ہوگی۔
لبنان کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور اقتصادی اثرات
لبنان پہلے ہی دنیا کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا تھا۔ ملکی کرنسی کی قدر میں بے پناہ کمی، بینکاری کے نظام کے تباہ ہونے اور سیاسی عدم استحکام نے عام لبنانی شہری کی زندگی کو اجیرن بنا دیا تھا۔ اب اس مسلط کی گئی جنگ نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ لبنانی وزارتِ اقتصادیات کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس جنگ نے لبنان کے زراعت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ وادی بقاع جو لبنان کی زرعی پیداوار کا مرکز ہے، وہاں کی گئی شدید بمباری نے کسانوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بیروت کے وسطی علاقوں میں واقع تجارتی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہاں حزب اللہ کا مالیاتی نیٹ ورک اور سونا چھپایا گیا تھا۔ ان حملوں نے لبنان کی معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ اقتصادی بحرانوں اور ان کے علاقائی اثرات پر ہماری مزید تفصیلات تخصیصی مضامین کی کیٹیگری میں ملاحظہ کیجیے۔
لبنان کے صحت عامہ کے نظام کی ابتر صورتحال اور اسپتالوں پر دباؤ
کسی بھی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے کمزور طبقات کو پہنچتا ہے۔ لبنان کا صحت عامہ کا نظام، جو پچھلے کئی سالوں کے مالیاتی بحران، ادویات کی قلت اور طبی عملے کی بیرون ملک ہجرت کے باعث پہلے ہی تباہی کے دہانے پر تھا، اب بالکل مفلوج ہو چکا ہے۔ اسرائیلی بمباری نے جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں میں واقع کئی بنیادی مراکز صحت اور اسپتالوں کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ طبی عملے کو فرائض کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں کی تباہی اور مسلسل فضائی حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو اسپتالوں تک منتقل کرنا ایک جان لیوا مرحلہ بن گیا ہے۔
میڈیا کوریج اور معلومات کی جنگ (انفارمیشن وارفیئر)
آج کے جدید دور میں جنگ صرف میدان جنگ میں ہی نہیں لڑی جاتی، بلکہ ابلاغ عامہ اور سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ میں بھی ایک شدید انفارمیشن وارفیئر جاری ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ، دونوں اطراف سے پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل اپنی ویڈیوز اور بیانات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور حزب اللہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب، حزب اللہ کا حامی میڈیا اپنے حملوں کی کامیابیوں اور اسرائیلی فوج کے جانی نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ اپنے حامیوں کے حوصلے بلند رکھ سکے۔
امریکی سفارتکاری، خطے کے دیگر ممالک کا کردار اور قیام امن کی کوششیں
امریکہ، جو روایتی طور پر اسرائیل کا سب سے بڑا دفاعی اور سفارتی اتحادی ہے، اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک جانب امریکہ اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کر رہا ہے تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی دباؤ بھی استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فرانس، جس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلسل ایک نئی قرارداد منظور کروانے کے لیے کوشاں ہے جو فوری جنگ بندی اور امدادی کارروائیوں کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام کی ضمانت دے سکے۔ تاہم خطے کے دیگر عرب ممالک، بالخصوص خلیجی ریاستیں، اس تنازعے کو محتاط نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں۔ وہ ایک جانب لبنان میں ہونے والے انسانی المیے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی خواہش ہے کہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کیا جائے۔
مستقبل کے مذاکرات اور امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں پیچھے ہٹنا ان کے لیے اپنی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ جب تک کسی ایک فریق کی عسکری قوت کو نمایاں حد تک نقصان نہیں پہنچتا یا اندرونی سیاسی دباؤ ناقابل برداشت نہیں ہو جاتا، ایک حقیقی اور مستحکم جنگ بندی ناممکن نظر آتی ہے۔ لبنان کی سرکاری فوج کی استعدادِ کار میں اضافہ اور انہیں جدید ہتھیاروں کی فراہمی وہ واحد دیرپا حل ہے جس کے ذریعے لبنان کے اندر ریاستی رٹ کو قائم کیا جا سکتا ہے۔
حتمی نتیجہ اور امن کے امکانات
لبنان کی موجودہ صورتحال ایک ایسا المیہ ہے جس کا فوری حل نظر نہیں آ رہا۔ حزب اللہ کے پاس اب بھی سینکڑوں میزائل روزانہ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور اسرائیلی فضائی اور زمینی قوت اسے مکمل طور پر کچلنے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔ یہ غیر متناسب لیکن خوفناک جنگ نہ صرف لبنان کی بقا کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اگر عالمی برادری نے فوری اور ٹھوس سفارتی مداخلت نہ کی، تو یہ تنازعہ ایک ایسے المیے کو جنم دے گا جس سے سنبھلنا مشرق وسطیٰ کے لیے دہائیوں تک ممکن نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ بندی کے لیے ایک ایسا پائیدار طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں تمام فریقین کی جائز سلامتی کو یقینی بنایا جائے، اور لبنان کی ریاستی خودمختاری کو بحال کرتے ہوئے خطے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔

Leave a Reply